30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گناہ اس کی نیکیوں پر غالب آ جائیں۔
مُرَوَّت کی تعریف:
مُرَوَّت یہ ہے کہ انسان وہ کام نہ کرے کہ لوگ اس جیسے شخص سے ایسا کام ہونے کو ناپسند کریں مثلاً کھانا پینا وغیرہ۔یہ اس بات پر دلیل ہے کہ اگر انسان کھانے یا لباس کے معاملے میں اپنے نفس پر بخل اور تنگی کرے تو اس کی گواہی مردود ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام ابن عمادعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام اَسْنَوِیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) سے نقل کیاکہ صغیرہ پر اصرار اسے کبیرہ بنا دیتا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں اورحضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) نے تویہ عبارت ذکر ہی نہیں کی بلکہ انہوں نے یہ بیان فرمایا کہ گواہ فاسق ہو جائے گا اوراس سے یہ لازم نہیں آتا کہ صرف کبیرہ گناہ ہی کی وجہ سے کسی کو فاسق قرار دیا جائے یا اس کی گواہی رد کر دی جائے کیونکہ کبھی صغیرہ گناہوں پر اصرار کرنے اور کسی انتہائی سنگین صغیرہ گناہ کے ارتکاب سے بھی یہ دونوں لازم آ جاتے ہیں جیسے لوگوں کی موجودگی میں اجنبی عورت کو بوسہ دینا۔(۱)
کسی کو فاسق قرار دینے کے متعلق حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ)نے جو ذکر کیا معاملہ اس طرح نہیں کیونکہ کبیرہ گناہ کے ارتکاب سے فسق لازم آتا ہے جبکہ گواہی قبول نہ ہونے کا معاملہ اس کے خلاف ہے کیونکہ یہ تو خلافِ مُرَوَّت کام سے بھی رد ہو جاتی ہے جیسا کہ ان لوگوں کے نزدیک بوسہ کی مذکورہ صورت جو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہکی مطبوعہ1197 صفحات پرمشتمل کتاب بہارشریعتجلدسوم صفحہ446 پر صدر الشریعہ،بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :’’اجنبیہ عورت کے چہرہ اور ہتھیلی کو دیکھنا اگرچہ جائز ہے مگر چھونا جائز نہیں ، اگرچہ شہوت کا اندیشہ نہ ہو کیونکہ نظر کے جواز کی وجہ ضرورت اور بلوائے عام ہے چھونے کی ضرورت نہیں ، لہٰذا چھونا حرام ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان سے مصافحہ جائز نہیں اسی لیے حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَسَلَّم بوقت بیعت بھی عورتوں سے مصافحہ نہ فرماتے صرف زبان سے بیعت لیتے۔ ہاں اگر وہ بہت زیادہ بوڑھی ہو کہ محل شہوت نہ ہو تو اس سے مصافحہ میں حرج نہیں۔ یوہیں اگر مرد بہت زیادہ بوڑھا ہو کہ فتنہ کا اندیشہ ہی نہ ہو تو مصافحہ کرسکتا ہے۔‘‘
(الہدایۃ،کتاب الکراہیۃ،فصل في الوطء والنظرواللمس،ج۲،ص۳۶۸،وغیرہا)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع