30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام زرکشی اور سیِّدُنا امام ابنِ عماد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِم وغیرہ کا مُتَّفِقَہمؤقف یہ ہے کہ ایک قسم کے صغیرہ گناہ پر ہمیشگی نقصان نہیں دیتی اور نہ ہی کئی اقسام کے گناہوں پر مداومت نقصان دہ ہے خواہ وہ ایک صغیرہ پر قائم رہے یا کئی پر یا ان گناہوں کوبکثرت کرے جبکہ اس کی نیکیاں نافرمانیوں پر غالب ہوں ، ورنہ وہ نقصان دہ ہے اور حضرات شیخین (یعنی امام رافعی وامام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمَا) کے دوسرے دو مقامات پر واقع کلام کو اسی معنٰی پر محمول کیاجائے گا اور وہ کلام یہ ہے کہ صغیرہ گناہ پر ہمیشگی گواہی ردکئے جانے میں اسے کبیرہ گناہ کی مثل بنا دیتی ہے لیکن اس قسم کے ساتھ شرط ہے کہ اس کی نیکیاں خطاؤں پر غالب نہ ہوں۔
گواہی میں عادِل یا غیرِ عادِل ہونا:
حضرت سیِّدُنا امام اَسْنَوِیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کے مذکورہ قول کی جو وضاحت کی وہ ہماری بیان کردہ بعض باتوں کے خلاف ہے، لہٰذا اس کی وجہ سے دھوکے میں مبتلا نہ ہوں اور حضرت سیِّدُنا امام جلال الدین بلقینی اور حضرت سیِّدُنا امام ابنِ عماد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمَا وغیرہ نے ان کے قول پر اعتراض کیا اور ان کی تردیدکی اور جمہورعلمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا یہ قول بھی میرے مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ جس کی نیکیاں اس کے گناہوں پر غالب ہوں وہ عادل ہے۔ اس لئے کہ اس قول کا ظاہری مفہوم اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر غالب ہوں اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی خواہ وہ گناہ ایک قسم کے ہوں یا مختلف اقسام کے۔
حضرت سیِّدُنا امام شہاب الدین اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں کہ مذہب، قولِ جمہور اور جس قول پر نصوص دلالت کرتی ہیں وہ یہ ہے کہ جس شخص پر اس کی اطاعت اور مُرَوَّت غالب ہو اس کی گواہی مقبول ہے اور جس پر نافرمانی اور خلافِ مروّت کام غالب ہوں اس کی گواہی مقبول نہیں۔ حضرات شیخین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمَا نے ایک ضعیف قول نقل فرمایا ہے کہ تین بار صغیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے سے وہ کبیرہ گناہ بن جاتاہے یا اُسے اس قول پر محمول کیا جائے گا کہ اس کے ساتھ نافرمانیوں کا غلبہ ملا ہوا ہو۔
مُوجب ِ فسق عیب کی تعریف:
’’اَ لْعِبَادِی‘‘کی عبارت یہ ہے کہ موجب فسق عیب یہ ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرے یا اس کے صغیرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع