30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کبیرہ نمبر462: صغیرہ گناہوں پر اصرارکرنا
یعنی ایک یا کئی صغیرہ گناہوں پر یوں ہمیشگی اختیار کرنا کہ اس کی نافرمانی اطاعت پر غالب آ جائے
صغیرہ گناہ پر اصرار کرنے کا حکم:
حضرات ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے تصریح کی ہے کہ صغیرہ گناہ عدالت کے ساقط ہونے میں کبیرہ گناہ کی طرح ہے اور حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا قول نقل فرماتے ہیں کہ کسی کے عادل ہونے میں اس کا کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنا معتبر ہے، پس جس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا وہ فاسق ہو گیااور اس کی گواہی قبول نہ ہو گی۔ البتہ! صغیرہ گناہوں سے مکمل طور پر بچنا شرط نہیں لیکن یہ شرط ہے کہ ان پر اصرار نہ کرے، اگر اس نے اصرار کیا تو اصرار کرنے کا حکم کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرنے کی طرح ہو گا۔
سوال:کیا عدالت کو ختم کرنے والے اصرار سے مراد کسی ایک ہی صغیرہ گناہ پر ہمیشگی اختیار کرنا ہے یا کئی صغیرہ گناہوں کی کثرت کرنا خواہ وہ ایک قسم کے ہوں یا مختلف اقسام کے؟
جواب: بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے نزدیک پہلا احتمال اور بعض کے کلام سے دوسرا احتمال معتبر ہے۔ جمہور ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا قول دوسرے مؤقف کے موافق ہے کہ جس شخص کی اطاعت اس کی نافرمانی پر غالب آجائے وہ عادل ہے اور جس کی نافرمانی اس کی اطاعت پر غالب آ جائے اس کی گواہی مقبول نہیں ۔ ’’اَلْمُخْتَصَر‘‘ میں حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۲۰۴ھ) کا قول بھی اس کے قریب قریب مفہوم پر دلالت کرتا ہے اورجب ہم دوسرے احتمال کو معتبر قرار دیں تو صغیرہ گناہوں کی ایک قسم پر ہمیشگی اختیار کرنا نقصان نہیں دیتاجبکہ اطاعت غالب ہو لیکن پہلے احتمالات کی بنا پر یہ نقصان دِہ ہے اور صاحب ِ روضہ نے اَ لرَّوْضَۃ میں انہیں کی اتباع کی اور دونوں کا کلام دوسرے احتمال کو ترجیح دینے کا تقاضا کرتا ہے اور یہی حقیقت ہے اور حضرت سیِّدُنا ابن سراقہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ وغیرہ نے بھی اسی کی تصریح کی ہے۔
حاصلِ کلام:
قابلِ اعتماد بات یہ ہے کہ اکثر متأخرین جیسے سیِّدُناامام اذرعی(متوفی۷۸۳ھ)، سیِّدُنا امام جلال بلقینی، سیِّدُنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع