30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فحش اور جھوٹ نہ ہو۔(۳)…ممنوع: اس کی دو اقسام ہیں : جھوٹ اور فحش اور ان دونوں کے کہنے والوں کو عیب لگایا جائے گا اور اگر کوئی حالت ِ اضطرار میں پڑھ رہا ہو تو معیوب نہیں لیکن اختیا ر سے پڑھنے والا معیوب ہے، حضرت سیِّدُنا امام رویانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَ انِی نے بھی انہیں کی پیروی کی ہے۔‘‘ (۱)اوربلاشبہ جو کلام اللہ عَزَّوَجَلَّکی اطاعت، سنت کی پیروی، بدعت سے اجتناب اوراللہ عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی سے بچنے پر اُبھارے وہ عبادت ہے اور اسی طرح جو کلام حضورنبی ٔ کریمصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعریف پر مشتمل ہو وہ بھی عبادت ہے۔
بے شک شاعر کا مذمَّت کرنا حرام ہے خواہ وہ سچا ہو یا جھوٹا اور اس کی گواہی مردود ہے۔ اسی طرح اگر وہ نامناسب برا ذکر کرے یا صریح تہمت لگائے تو یہ بھی حرام ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے شعرا کی مذمَّت میں وارد حدیث ِ پاک کو اسی حکم پر محمول کیا اور اکثر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس بات پر محمول کیا ہے کہ جب اس پر شعر اس قدر غالب آ جائیں کہ ان میں مشغول ہوکر قرآنِ پاک اور فقہ سے اعراض کرنے لگے۔ اسی وجہ سے حدیث ِ پاک میں اِمْتِلَاء کا ذکر کیا گیا(یعنی پیٹ کے پیپ سے بھرے ہونے کو اشعار میں مشغولیت سے بہتر قرار دیا گیا) اور اشعار میں تھوڑا فخر بھی زیادہ فخر کی طرح مذموم ہے۔
۞۞۞۞۞۞۞
{…مدنی انقلاب …}
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وَصلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خوشنودی کے حصول اور باکردار مسلمان بننے کے لئے ’’دعوتِ ا سلامی‘‘ کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ سے’’ مدنی انعامات ‘‘نامی رسالہ حاصل کر کے اس کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کیجئے اور اپنے اپنے شہروں میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنتو ں بھرے اجتماع میں پابندیٔ وقت کے ساتھ شرکت فرما کر خوب خوب سنتوں کی بہاریں لُوٹئے۔ دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے لیے بے شمار مدنی قافلے شہر بہ شہر،گاؤں بہ گاؤں سفر کرتے رہتے ہیں،آپ بھی سنتوں بھرا سفر اختیار فرما کراپنی آخرت کے لئے نیکیوں کا ذخیرہ اکٹھا کریں۔ اِنْ شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ اپنی زندگی میں حیرت انگیز طور پر’’ مدنی انقلاب‘‘ برپا ہوتا دیکھیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… روح المعانی، الشعراء،تحت الآیۃ۲۲۷، جزئ۱۹، ص۲۰۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع