30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں حرج نہیں اور اگر وہ ان اوصاف سے بالکل خالی ہو یعنی وہ فاسق، جاہل یا کنجوس کو سب سے بڑا عالم، عادل یا سخی وغیرہ قرار دے جس کا جھوٹ ہونا قطعی طور پر محسوس ہو تو وہ حیا اور مروَّت کی چادر کو چاک کرنے والا ہے۔
مدح سرائی کو پیشہ بنانے کا حکم:
یہی حکم اس شخص کا ہے جو مدح سرائی کو اپنا پیشہ بنا لے اور اکثر اوقات اسی میں مگن رہے البتہ! اس کا معاملہ اس کے برعکس ہے جو بعض اوقات ممدوح کی طرف سے حاصل ہونے والی کسی خیر و بھلائی کی وجہ سے اس کی تعریف کرتا ہے۔ پس اس کا اس قسم کی تعریف میں مشغول ہونا قابلِ معافی ہے کیونکہ اس کا مقصد محض فنِ شاعری کا اظہار اور نظم کی عمدگی ہے۔
حضرت سیِّدُناامام ابو الحسن علی بن محمد ماوردی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’شعر گوئی کے ذریعے کمائی کرنے والے کو جب عطا کیا جائے تو تعریف کرے اور جب نہ دیا جائے تو مذمت نہ کرے اور جو تھوڑا بہت اسے ملے بخوشی قبول کر لے تو اس کی عدالت اور گواہی قبول کی جائے گی۔‘‘ یہ صحیح اور بہترین قول ہے۔حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) کے کلام اور حضرت سیِّدُنا امام ماوردی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے حوالے سے ذکرکردہ کلام کے مفہوم اور اسے مستحسن قرار دیئے جانے سے میرے عنوان میں ذکر کردہ مؤقف کی تائید ہوتی ہے ۔ حضرت سیِّدُنا امام ماوردی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مزید فرماتے ہیں : ’’اگر شاعر تعریف کرے اور خوب سراہے تو اگر اس کی تعریف مبالغہ پر محمول ہوسکتی ہو تو جائز ہے ورنہ وہ محض جھوٹ ہے جیسا کہ عام شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے کہا ہے۔‘‘
کیا شعر میں مبالغہ کرنا بہتر ہے؟
ادبا وغیرہ کا اس بات میں اختلاف ہے کہ شعر میں مبالغہ کرنا بہتر ہے یا کسی چیز کو حقیقت کے مطابق بیان کرنا۔ ایک قول کے مطابق مبالغہ بہتر ہے جبکہ ایک قول یہ ہے کہ مبالغہ نہ کرنا بہتر ہے اور کسی چیز کو حقیقت کے مطابق ذکر کرنا بہتر ہے تاکہ جھوٹ سے محفوظ رہے اور حضرت سیِّدُنا حسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوغیرہ کا اسی پر عمل ہے۔ البتہ! ایک قول کے مطابق اگر مبالغہ محال چیز کی طرف لے جائے تو اسے ترک کیا جائے ورنہ مبالغہ کرنا بہتر ہے۔
عنوان میں ذکرکردہ قید سے خالی اشعار پڑھنے اور بنانے میں کوئی حرج نہیں۔ حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لَولاک،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع