30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بدعتی کی مذمَّت کاحکم:
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ)نے اس مسئلہ میں بدعتی کو حربی کے ساتھ شامل کیا اور متأخرین کے ایک گروہ نے اُن کی اتباع کی۔ پس بدعت کی وجہ سے اُس کی مذمَّت جائز ہے بشرطیکہ کسی شرعی مقصد کے لئے ہو جیسے اس کی بدعت سے لوگوں کو بچانا مقصود ہو۔
مُرتد کی مذمَّت کاحکم:
حضرت سیِّدُنا ابنِ عماد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد فرماتے ہیں : ’’مرتد کی مذمَّت جائز ہے لیکن بے نمازی اور شادی شدہ زانی کی مذمَّت جائز نہیں۔ ‘‘
مرتد کے متعلق تو ان کا قول واضح ہے کیونکہ وہ حربی کی طرح بلکہ اس سے بھی برا ہوتا ہے لیکن دوسرے دونوں کی مذمَّت تب تک جائز نہیں جب تک کہ اُن کا فسق و فجور واضح نہ ہو جائے۔
فاسق مُعْلِن کی مذمَّت کاحکم:
فاسق مُعْلِن(یعنی اعلانیہ فسق کرنے والے) کی صرف اسی فسق میں مذمَّت کرناجائز ہے جس کا وہ کُھلم کُھلا اظہارکرتا ہے کیونکہ اس کی اس فسق کے متعلق غیبت کرنا بھی جائز ہے۔ اس بنا پر تمام علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے مطلق اقوال کو فاسق مُعْلِن کی مذمَّت کے جواز پر محمول کیا جائے گا۔
سوال:حضرت سیِّدُنا امام بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں :راجح قول کے مطابق (فسقیہ اشعار کہنے والے) فاسق کی مذمَّت حرام ہے مگر جھڑکنا مقصود ہو تو جائز ہے کیونکہ کبھی مذمَّت کے باعث وہ توبہ کر لیتا ہے لیکن شعر کا داغ اس پر باقی رہتا ہے جبکہ کافر اسلام لے آئے تو اس کا معاملہ ایسا نہیں ہوتا(یعنی اس پر کفر کاداغ باقی نہیں رہتا)؟
جواب: اس کا جواب یہ ہے کہ فاسق کا علانیہ گناہ کرنا، لوگوں کی بھی پرواہ نہ کرنااور لوگوں کا اس کے متعلق باتیں کرنا اسے ناقابلِ احترام شخص بنا دیتا ہے پھر اس کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔ پس وہ علانیہ فسق میں مبتلا ہو کر بذاتِ خود اپنے نفس کی حرمت کو پامال کرنے والا ہے لہٰذا اس عیب کے اس پر باقی رہنے کی پرواہ نہیں کی جاتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…روح المعانی، الشعرائ، تحت الآیۃ۲۲۷، جزئ۱۹،ص۲۰۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع