30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیا۔ ان میں حضرت سیِّدُنا امام رویانی، امام صید لانی،امام ابنِ صباغ، امام محاملی، امام جرجانی، صاحبُ الکافی، صاحبُ البیان اور صاحبُ الایضاح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِم ہیں اور حضرت سیِّدُنا امام ابنِ رفعہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے بھی اپنی کتاب ’’اَ لْمَطْلَب‘‘میں مطلق کے قول کو اختیار کیا اورسرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا حضرت سیِّدُنا حسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو مشرکین کی مذمَّت کرنے کا حکم دینے سے اور اس دعائے مصطفی سے استدلال کیا کہ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !جبرئیل امین کے ذریعے اس کی تائید فرما۔‘‘ (۱)
چنانچہ، حضرت سیِّدُنا حسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہقریش کی مذمَّت کرتے اور آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے: ’’بے شک یہ ان پر تیروں کی بوچھاڑ سے زیادہ شاق گزرتی ہے۔‘‘ (۲)
کافروں کی مذمَّت کا حکم عام ہے اور معیَّن حربی خواہ زندہ ہو یا مُردہ جبکہ اس کا کوئی قریبی ذمی رشتہ دار نہ ہو جو اُس کی مذمَّت سے اذیت محسوس کرے تو اس کی مذمَّت جائز ہے اور اگر وہ ذمی ہو یا مسلمانوں سے اس کا کوئی عہد طے پا چکاہو یا ایسا حربی ہو جس کا قریبی رشتہ دار ذمی یا مسلمان ہو جو اس کی مذمَّت سے اذیت محسوس کرے تو اب اس کی مذمَّت جائز نہیں۔ جیسا کہ ایک طبقۂ متأخرین نے کہا، حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) بھی ان میں شامل ہیں۔حضرت سیِّدُنا ابنِ عماد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے اس پر مزید یہ بھی فرمایا کہ بے شک مومن ذمی کی طرح ہے اور علَّت یہ بیان کی کہ ہم پر اہلِ ذمہ سے مذمَّت روکنا لازم ہے جیسا کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس کی تصریح فرمائی ہے اور حضرت سیِّدُنا امام زرکشیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے بھی یہی فرمایا اور یہ اس مسئلہ کی صحیح تفصیل ہے۔
حضرت سیِّدُنا حسان بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا کفارِ قریش کی مذمَّت کرنے کا جواب یہ ہے کہ وہ اگرچہ معیَّن اشخاص کے متعلق تھی مگر وہ سب حربی تھے اوربالفرض ان کفار کی مذمت کو ناجائز مان بھی لیا جائے تب بھی اس کے جواز کی صورت یہ تھی کہ وہ اللہو رسولعَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ناموس(یعنی عزَّت) کا تحفُّظ کر رہے تھے ، لہٰذا یہ مذمت نہ صرف مباح بلکہ عبادت تھی۔ اسی وجہ سے رسولِ انور، صاحبِ کوثر صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کا حکم دیا اورآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے حق میں دعا بھی فرمائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب الادب، باب ہجاء المشرکین، الحدیث:۶۱۵۲،ص۵۱۹۔
2…صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضائل حسان بن ثابت، الحدیث:۶۳۹۵،ص۱۱۱۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع