30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سبب جر ِیر اور فَرَزْدَقکی مذمَّت تو کی مگر عِلْمُ الْبَیَان میں اِعرَاب وغیرہ پر استدلال کے لئے ان کے اشعار بطورِدلیل پیش کرنے والوں کی مذمَّت نہیں کی اور حضرات ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے عدمِ جواز کے کلام کو اس صورت پر محمول کرنا ضروری ہے جو لہوو لعب میں مبتلا اور بے کار لوگوں کی عادت ہوتی ہے اور دوسرا یہ کہ اس سے مراد آج کل کے شعرا کا شعر پڑھنا ہے جبکہ وہ اشعار ناجائز ہوں کیونکہ ان کے کلام میں اذیت، زندوں کی مذمَّت، زندوں کی مُردوں کے متعلق بدکلامی یا مُردوں کی برائیوں کا تذکرہ ہوتا ہے اور وہ اس پائے کے شعرابھی نہیں ہوتے جن سے لغت وغیرہ میں حجت پکڑی جائے، محض لوگوں کی عزَّتوں سے کھیلنا رہ جاتا ہے ۔‘‘
تعریضاً مذمَّت کرنے کا حکم:
حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) فرماتے ہیں : ’’تعریض(۱) میں مذمَّت کرنا صراحتاً مذمَّت کرنے کی طرح ہے بلکہ بعض اوقات تعریض کے ساتھ مذمَّت زیادہ ہوتی ہے۔’’شَرْحُ الصَّغِیْر‘‘میں اس قول پر قطعی حکم دیاگیا اورحضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) نے اسے بہترین قول قرار دیا اور حضرت سیِّدُنا امام ابن کج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہکا یہ قول کمزور ہے کہ تعریض مذمَّت میں شمار نہیں ہوتی۔
حضرت سیِّدُنا امام حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی کا یہ قول میرے ذکر کردہ مؤقف کی تائید کرتا ہے کہ جس چیز کی تصریح اس کی ذات کی وجہ سے حرام ہو اس میں تعریض بھی حرام ہے اور جس چیز کی تصریح اس کی ذات کی وجہ سے حرام نہ ہو بلکہ کسی دوسرے عارض کی وجہ سے حرام ہو تو اس میں تعریض جائز ہے جیسے عدت والی عورت کو دعوتِ نکاح دینا۔
سوال:حضرت سیِّدُنا امام زرکشی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام ابن کج رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہکا قول قیاس کے زیادہ قریب ہے کیونکہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام تہمت کے باب میں تعریض کو کنایہ کے ساتھ بھی ملحق نہیں کرتے تو یہ تصریح کے ساتھ کیسے ملائی جا سکتی ہے؟
جواب: یہ ہمارے موضوع کے خلاف ہے کیونکہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کاکلام حد کے معاملے میں (تعریض کو تصریح کے ساتھ)ملحق نہ کرنے کے متعلق ہے اور ہمارا کلام (تعریض سے مذمَّت کرنے کی)حرمت کے متعلق ہے اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تعریض یہ ہے کہ ’’کلام کو کسی ایک طرف مائل کردینا اس میں اشارہ ایک جانب ہوتا ہے اورمراد دوسری جانب لے لی جاتی ہے۔‘‘
(معجم اصطلاحات،ص۵۵)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع