30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ جب کسی نے اپنے شعر میں ایذا پہنچائی یعنی ایک مسلمان یا کئی مسلمانوں کی مذمت کی تو فاسق ہو جائے گا اس لئے کہ مسلمان کو ایذا دینا حرام ہے اور ہمارے شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ یہ اس صورت میں ہے کہ جب کثرت سے ایسا کرے مگر میرے نزدیک ان کی اس بات میں غوروفکر کی ضرورت ہے۔ کلامِ اذرعی کا خلاصہ اختتام کوپہنچا۔
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) مزید فرماتے ہیں : ’’مِنْھَاج کا کلام مسلمانوں کی مذمَّت اور عورتوں کے متعلق ناجائزعشقیہ اشعار پڑھنے کی حرمت کا تقاضا کرتا ہے جیسا کہ ایسے اشعار بنانا حرام ہے مگر اسے مطلق طور پر حرام قرار دینا مشکل ہے۔ حضرت سیِّدُنا اِمام مُوَفَّقُ الدِّیْن اَبُومُحَمَّد عَبْدُ اللہ بن اَحْمَد بن مُحَمَّد بن قُدَامَہ مَقْدِسِی حَنْبَلِیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی( متوفی ۶۲۰ھ) نے کتنی اچھی بات ارشاد فرمائی کہ ہمارے شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے ذکر فرمایا ہے کہ معین عورت کے محاسن میں مبالغہ کرتے ہوئے اس کے متعلق عشقیہ اشعار کہنا حرام ہے۔ اگراس سے مراد یہ ہو کہ ایسا کرنا شعر کہنے والے پر حرام ہے تو صحیح ہے اور اگر یہ مراد ہوکہ راوی پرحرام ہے تو صحیح نہیں ، کیونکہ غزوات کے ابواب میں صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْنکی گستاخی پر مشتمل کفار کے قصیدے بیان کئے گئے ہیں اور کوئی اس کا انکار نہیں کرتا۔ چنانچہ، مروی ہے کہ ’’حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابنِ ابی صلت کے حَائِیَّہ قصیدے کے علاوہ ان تمام اشعار کی اجازت عطا فرما دی جن کے ذریعے شعرا،بدر و اُحد وغیرہ کے دنوں میں (کفار سے)مقابلہ کرتے تھے۔‘‘اورآپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بذاتِ خود حضرت سیِّدُنا کعب بن زہیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قصیدہ سماعت فرمایا اور لوگ ہمیشہ سے اس جیسے قصائد روایت کرتے آرہے ہیں اور اس کا انکار نہیں کیا جاتا۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)فرماتے ہیں : ’’حضرت سیِّدُنا امام موفَّق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے جو ذکر کیااس میں کوئی شک نہیں بشرطیکہ اس میں نہ فحش گوئی ہو، نہ کسی زندہ یا مردہ مسلمان کو تکلیف پہنچائی جائے اور اس صورت میں یہ بلا حاجت جائز ہے اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے ایک دوسرے کی ہجو کرنے کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المغنی لابن قدامۃ،کتاب الشہادات، مسئلۃ۱۸۹۰: العدل من لم تظہر منہ ریبۃ ، فصل الشعرکالکلام…الخ،
ج۱۴،ص۱۶۵۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع