30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) نے فرمایا: اس طرح کرنے سے اس شخص کی تصویرسامنے آجاتی ہے اوریہ سمجھانے میں زیادہ واضح اوردل کے لئے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اور کتاب لکھنے والے کا معیَّن شخص کا ذکر کرکے اس کے کلام کورد کرنا بھی غیبت ہے۔ مگر یہ کہ غیبت کو مباح کرنے والے مذکورہ چھ اسباب میں سے کوئی سبب پایاجائے اوراسی طرح آپ کا یہ کہنا بھی غیبت ہے کہ ’’آج جو لوگ ہمارے پاس سے گزرے ان میں سے ایک نے اس طرح کیاجبکہ مخاطب اس سے معین شخص کو سمجھ رہا ہواگرچہ کسی خفیہ قرینہ سے ہو ورنہ آپ کا یہ کہنا حرام نہ ہو گا جیسا کہ اِحْیَائُ الْعُلُوم وغیرہ میں ہے ۔‘‘ (۱)
اعتراض:علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا یہ قول کہ غِیْبَتْ بِالْقَلْب یعنی دل سے غیبت کرنا حرام ہے، مذکورہ مؤقف کی نفی کرتا ہے لہٰذا مخاطب کے سمجھنے کا کوئی اعتبار نہیں ؟
جواب:دل کی غیبت سے مراد یہ ہے کہ آپ کے دل میں کسی کے بارے میں بد گمانی پیدا ہو اور بغیر کسی شرعی جواز کے آپ اس پر دل کو پختہ کر لیں۔ پس دل کی غیبت سے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی یہی مرادمتعین ہوتی ہے اور مخاطب کو غیر معین شخص کی بات بتانا جو آپ کے نزدیک معین ہولیکن اس کے لیے بدگمانی کا اعتقاد اور دل کا پختہ ارادہ نہ ہو تو اس اعتبار سے یہ دو الگ صورتیں بن جائیں گی۔ پھر میں نے ’’اِحْیَائُ عُلُومِ الدِّیْن‘‘ میں بدگمانی کے بارے میں دیکھا تو وہاں بھی میرے ذکر کردہ کلام کے مطابق تصریح ہے اور اس پر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے کلام کو محمول کرنا بھی متعین ہو جاتا ہے۔
غیبت کی خبیث ترین قسم یہ ہے کہ کوئی شخص صالحین کا طریقہ کار اور اپنا مقصود سمجھاتے ہوئے غیبت سے بچنے کا اظہار کرے حالانکہ اپنی جہالت کی بنا پر وہ یہ نہیں جانتا کہ اس نے ریا کاری اور غیبت دو فحش باتوں کو جمع کر لیا ہے مثلاً بعض ریا کاروں کے سامنے جب کسی انسان کا ذکر کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّکا شکر ہے جس نے ہمیں حیا کی کمی یا بادشا ہوں کے پاس جانے کی مصیبت میں گرفتا ر نہ کیا۔‘‘ حالانکہ اُن کا ارادہ دعا کرنا نہیں بلکہ سننے والے کو دوسرے کا عیب سمجھا نا ہوتا ہے۔
کبھی تو اس کی خباثت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ لہٰذا پہلے وہ کسی کی تعریف کرتا ہے پھر اس تعریف میں غیبت کی آمیزش ظاہر ہوجاتی ہے۔ پس وہ کہتا ہے کہ فلاں عبادت یا علم میں بہت زیادہ کوشش کرنے والا ہے لیکن وہ بھی اسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء علوم الدین،کتاب آفات اللسان،الآفۃ الخامسۃ عشرۃ الغیبۃ ،بیان ان الغیبۃ لا تقتصر…الخ،ج۳،ص۱۷۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع