30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{1}…پہلا مؤقِّف یہ ہے کہ یہ جائز ہے اور گواہی بھی مردود نہ ہو گی۔ اس مؤقِّف کے قائلین کہتے ہیں کہ جب عورت معین نہ ہو تو اس کی گواہی مردود نہ ہو گی کیونکہ ہو سکتا ہے اس کی مراد وہ عورت ہو جو اس کے لئے حلال ہو۔
{2}…دوسرا مؤقِّف یہ ہے کہ صحیح مذہب یہ ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے ان معاملات کا ذکر کرے جن کو چھپانا اس کا حق ہے تو مُرُوَّت کے ساقط ہونے کی وجہ سے اس کی گواہی مردود ہو جائے گی۔
اعتراض: جس چیز کا چھپانا ضروری ہو اس کے متعلق مُرُوَّت کے ساقط ہونے کا دعویٰ کرنا ممنوع ہے۔
جواب: مروَّت کے ساقط ہونے کی صورت یہ ہے کہ اس کے ساتھ بے پروائی اختیار کرنا بھی شامل ہو جائیکیونکہ اس میں اس کی اولاد کی رسوائی پائی جاتی ہے اور بلا شبہ اس معاملے میں بے پروائی کا مظاہرہ کرنا مُرُوَّت کے منافی ہے۔
اعتراض:حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے اس کے سبب گواہی مردود نہ ہونے پر نص قائم فرمائی ہے۔
جواب: حرفِ آخر یہ ہے کہ اس مسئلہ میں حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی سے دو دلیلیں منقول ہیں شیخین نے ان میں سے ایک کو زیادہ واضح ہونے کی وجہ سے ترجیح دی لہٰذا ان دونوں پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔
اعتراض:جمہور نے گواہی مردود نہ ہونے کے قول کو ترجیح دی ہے۔
جواب: میں نے حضرت سیِّدُنا امام جلال بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی وغیرہ کا کلام دیکھا ان سب کااس پر اتفاق پایا کہ شیخین کی ترجیح اور جمہور کے مذہب کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں۔ کیونکہ شیخین کا قول اُس شخص کے متعلق ہے جو اپنی بیوی کی پوشیدہ باتیں بیان کرتا ہے مثلاً جماع اور خلوت کے معاملات کوبیان کرتا ہے اور جمہور کا قول اس شخص کے متعلق ہے جو غیر معین عورت یا اپنی بیوی کے متعلق عشقیہ اشعار کہے مگر مُرُوَّتاً پوشیدہ باتوں کا ذکر نہ کرے۔
پہلا مؤقف میرے ذکر کردہ کلام کے موافق ہے اور یہ بات بھی اس کے حرام نہ ہونے کی تائید کرتی ہے کہ حضرت سیِّدُنا کعب بن زہیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ عَزَّوَجَلَّکے پیارے حبیبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موجودگی میں سُعَاد کے متعلق عشقیہ اشعار کہے مگر آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے منع نہ فرمایا۔ اس بات کو اس پر محمول کیا گیا کہ دراصل سُعَاد حضرت سیِّدُنا کعب بن زہیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیوی اور چچا زاد بہن تھی اور اس کے ساتھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع