30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی کی ایک غزل ذکر کی جس کا ایک شعر یہ ہے:
لَوْ اَنَّ عَیْنَیَّ اِلَیْکِ الدَّھْرَ نَاظِرَۃٌ جَآءَ تْ وَفَاتِیْ وَلَمْ اَشْبَعْ مِنَ النَّظَرِ
ترجمہ: اگر میری آنکھیں تمام عمر تجھے دیکھتی رہیں یہاں تک کہ میری موت آجائے تب بھی میری نظروں کی پیاس نہ بجھے گی۔
اس شعر کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی تصریح نہیں پائی جاتی کہ یہ غزل آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے کسی لڑکے کے بارے میں کہی ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اپنی بیوی یا کنیز کے بارے میں کہی ہو۔
عنوان میں مذکور دوسرا اور تیسرا گناہ بھی کبیرہ ہیں جیسا کہ حضرت سیِّدُنا قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے ’’رَوْضَۃُ الاَحْکَام‘‘میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب کوئی شخص کسی عورت کے متعلق عشقیہ اشعار کہے اور فحش انداز میں اس کا ذکر کرے تو وہ فاسق ہے خواہ اس کا ذکر تفصیل سے کرے یا مختصر اور اگر اسے معیَّن کرے اور وہ اس کی کنیز یا بیوی ہو تووہ فاسق نہ ہوگا کیونکہ یہ کم حماقت ہے اورایک قول کے مطابق اس کی گواہی مردود ہو جائے گی اور اگر وہ عورت اجنبی اور معین ہو تو وہ فاسق ہو جائے گا اور اگر غیر معین ہو تو فاسق نہ ہوگا۔ ایک قول کے مطابق غیر معین ہونے کی صورت میں بھی وہ فاسق ہو جائے گا کیونکہ یہ بھی گناہ ہے۔
حضرات شیخین (یعنی امام رافعی وامام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمَا) کی عبارت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ وہ اس عمل سے فاسق نہ ہو گا اور اگر کہا جائے کہ اس کی گواہی مردود ہو جائے گی تو اس کی وجہ عدمِ مُرَوَّت ہے نہ کہ فسق۔ ’’اَلرَّوْضَۃ‘‘کی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ یہ قول زیادہ بہتر ہے کہ غیر معین عورتوں اور لڑکوں کے متعلق عشقیہ اشعار کہنے سے عدالت میں خلل نہیں آتا اگرچہ ایسے اشعار کی کثرت ہو کیونکہ عشقیہ اشعار کہنا ایک فن ہے اور شاعر کا مقصد محض کلام میں عمدگی لانا ہوتا ہے نہ کہ ذکر کی ہوئی بات کو ثابت کرنا۔ حضرات شیخین فرماتے ہیں : ’’اگر وہ کسی ایسی عورت کا نام لے جسے جانتا نہ ہو کہ وہ کون ہے تب بھی یہی حکم ہونا چاہئے اور اگر شاعر معین عورت کے متعلق عشقیہ اشعار کہے یا اس کا فحش ذکر کرے یا اس کے پوشیدہ اعضاکی صفت بیان کرے تو اس کی گواہی مردود ہے۔
بیوی یا کنیز کی تشبیب کا حکم:
اگر وہ اپنی کنیز یا بیوی کے متعلق عشقیہ اشعار کہے تو اس میں دو مؤقِف ہیں :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع