30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا امام جوہری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ یہ ایک چھوٹا سا باریک کمر والا ڈھول ہوتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام عبد اللطیف بغدادی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی نے بھی لُـغَّۃُ الْحَدِیْثمیں اسی طرح بیان کیا اور حضرت سیِّدُنا امام ابو الحسن علی بن محمد ماوردی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے بھی یہی کہا ۔ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں کہ یہی فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی مراد ہے اور صاحبِ تَنْقِیْب فرماتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ یہ مذکورہ ڈھول ہی ہے جس کے ساتھ نوجوانانِ قریش صفا و مروہ کے درمیان کھیلتے تھے۔
مذکورہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے علاوہ کچھ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے نزدیک کُوْبَہ سے مراد نَرْد (یعنی چوسر) ہے۔ ان میں سے ایک تو حضرت سیِّدُنا امام خطابی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی ( متوفی۳۸۸ھ)ہیں جنہوں نے ڈگڈگی کو ڈھول کہنے والوں کو غلط قرار دیا اور اسی کی مثل حضرت سیِّدُنا ابن اعرابی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِـی اور زمخشری نے بھی ذکر کیا اور حضرت سیِّدُنا امام ابنِ ا ثیرعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْر نے ’’اَلنِّھَایَۃ ‘‘ میں اسے صحیح قرار دیا۔ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام جوہری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی وغیرہ کے حوالے سے ذکر کردہ کلام اس کے متعلق مروی سخت حکم کو ختم نہیں کرتا۔ البتہ! اس کا ڈھول نام کے ہر آلے پر اطلاق کرنا صحیح نہیں۔
حاصلِ کلام:
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ڈگڈگی کا ڈھول پر اِطلاق کیا جا سکتا ہے اور یہی فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکی مراد ہے اور انہوں نے گزشتہ حدیث ِ پاک کہ ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ سارنگی اور ڈُگڈُگی بجانے والے کے علاوہ ہر گنہگار کو معاف فرما دیتا ہے‘‘ کو ڈھول، نرد اور شطرنج پر محمول کیا ہے اورنرد اہلِ یمن کی لغت ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام اَسْنَوِیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کے خیال کے مطابق اس کی ڈھول کے ساتھ تفسیر بیان کرنا لغت کی کتابوں میں مشہورکے خلاف ہے اور حضرت سیِّدُنا امام جوہری رعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی وغیرہ کے حوالے سے مذکور کلام ان کی تردید کے لئے کافی ہے۔ بلکہ صحیح یہ ہے کہ لغت کے اعتبار سے اسے ڈھول اور نرد دونوں پر بولا جاتا ہے جبکہ فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس سے صرف ڈھول ہی مراد لیا ہے لیکن آج کل جو ڈھول پایا جاتا ہے اس کے دونوں اطراف میں برابر کشادگی نہیں ہوتی، اسی طرح ایک طرف سے کھلا ہوتا ہے جس پر چمڑا ہوتا ہے اور اس پر مارا جاتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع