30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بخش نہ ہو اور اسے ایسے نغموں کے لئے استعمال کیا جائے جو خوش کُن ہوں اگرچہ باعث ِ لذت نہ ہوں تو یہ سب دف کے معنی میں ہوتے ہیں اور اس اعتبار سے ڈگڈگی دف کی طرح ہے۔لہٰذا اگر اس کے متعلق حرمت کا حکم لگانا صحیح ہو تو ہم اسے حرام قرار دیں گے ورنہ اس میں توقُّف کریں گے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ سے یہ بھی منقول ہے کہ اس میں معنوی اعتبار سے کوئی ایسی چیز نہیں جو اسے دیگر تمام طبلوں سے جدا کر دے۔ البتہ! ہیجڑے اسے بجانے کے عادی اور اس کے دلدادہ ہوتے ہیں ، اگر اس بارے میں صحیح حدیث مل جائے تو ہم اس پر عمل کریں گے۔
امامُ الحرمین کے قول کی تردید:
حضرت سیِّدُنا امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کے قول کی تردید اسی بات سے ہو جاتی ہے کہ ان کی مذکورہ بحث اجماع کے مخالف ہے، لہٰذا ہم اس پر اعتماد نہیں کرتے اور جس مسئلہ میں اجماع ہو چکا ہو اس میں حدیث کی صحت وضعف کو نہیں دیکھا جاتا۔ حالانکہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے بذاتِ خود اپنے والد ِ محترم حضرت سیِّدُنا شیخ ابو محمد عبداللہ بن یوسف جوینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیسے جو قول نقل کیا وہ اجماع کے موافق ہے۔ چنانچہ، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ فرماتے ہیں کہ میرے والد ِ محترم اس کے قطعی طور پر حرام ہونے کا حکم لگاتے اور فرماتے تھے کہ روایات میں اس کے بجانے اور اس کی آواز سننے والے پر سخت حکم موجود ہے اورحضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی نے اس بات پر نص قائم فرمائی ہے کہ تفریح طبع کے ڈھول کی وصیت باطل ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ ڈگڈگی کے علاوہ کوئی ڈھول دیگر آلات موسیقی میں داخل ہے حتی کہ اس کی وصیت کو باطل قرار دیا جائے ۔’’بَسِیْط‘‘ میں اسی قول کی اتباع کرتے ہوئے ڈگڈگی کو قطعی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے اور یہ کہ طبلوں میں سے سوائے اس کے کوئی حرام نہیں۔
اعتراض: اَ لْکَافِیْ کے قول کے مطابق ڈگڈگی حرام ہے اور تفریحِ طبع کا ڈھول بھی اسی معنی میں ہے جو اس بات پر دلیل ہے کہ ڈھول اور ڈگڈگی میں فرق ہے اور دوسرا یہ کہ عراقیوں نے بغیر کسی تفصیل کے ہر قسم کے ڈھول کو حرام قرار دیا؟
جواب: یہ کمزور طریقہ ہے اور صحیح یہ ہے کہ ڈگڈگی کے علاوہ تمام ڈھول جائز ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ عراقیوں کی مراد لہوکے ڈھول ہیں جیسا کہ کئی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اس کی صراحت فرمائی اور لہوکے ڈھول کو مطلقًا حرام قرار دینے والوں میں حضرت سیِّدُنا عمرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَ انِی، حضرت سیِّدُنا امام بغوی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع