30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اوراسے کن اوصاف سے متَّصف کرنا جائز اور واجب ہے اور اس پر کن اسما کا اطلاق صحیح اور کن کا ممنوع ہے۔ سماع کے صحیح ہونے کی یہ شرائط دانش مندوں میں سے اہلِ تحصیل(یعنی سماع کی طلب رکھنے والوں ) کے نزدیک ہیں۔‘‘ (۱)
اہلِ حقیقت کے نزدیک سماع کی شرط:
اہلِ حقیقت کے نزدیک سماع میں سچے مجاہدے کے ساتھ نفس کو فنا کرنا اور پھر مشاہدے کی روح سے دل کو زندہ کرنا شرط ہے۔ پس جس نے صحیح طور پر اپنا معاملہ سر انجام نہ دیا اور سچائی کے ساتھ اپنے مراتب کو نہ پا سکا تو اس کا سماع ضیاع اور کیفیاتِ وجد کا اظہار طبعی ہے، اس کے لئے سماع ایک ایسی آزمائش ہے کہ جس کی دعوت غلبۂ فسق دیتا ہے البتہ! اگر شہوت نہ پائی جائے اور خالص محبت حاصل ہو جائے تو پھر غلبۂ فسق اس کی دعوت نہیں دیتا۔ حضرت سیِّدُنا امام ابو القاسم قشیری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس بحث کا طویل ذکر فرمایا اور ان کے ذکر کردہ امورسے واضح ہوتا ہے کہ سماع کے آداب کو ملحوظِ خاطر نہ رکھنے کے سبب آج کل کے اکثر بناوٹی صوفیوں پر سماع اور رقص حرام ہے۔ (۲)
ڈگڈگی کی حرمت کا بیان
چوتھا قول اور اس کا ردّ ِ بلیغ:
ڈگڈگی کے متعلق حضرت سیِّدُنا امام الحرمین عبد الملک بن عبداللہجوینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’ اگر ہم اسے معنوی اعتبار سے دیکھیں تو یہ دف کے معنی میں ہے۔ میں نے اس میں حرمت کا تقاضا کرنے والی کوئی چیز نہیں پائی۔ البتہ! ہیجڑے اس کے بہت شوقین اور اسے بجانے کے عادی ہوتے ہیں۔‘‘
آ لاتِ موسیقی کے حرام ہونے کا قاعدہ:
اسی طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ سے منقول ہے کہ ’’رائے اس چیز کی حرمت کا تقاضا کرتی ہے کہ جس سے ایسی لُطف اندوز سُریلی آوازیں نکلیں جو انسان میں جوش پیدا کر دیں اور اسے کیف ومستی اور ان آوازوں کے پیدا ہونے کی جگہوں میں بیٹھنے پر برانگیختہ کریں۔ لہٰذا گانے باجے کے تمام آلات کا حکم یہی ہے اور ہر وہ شے جس کی آواز لذت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…روح المعانی، لقمٰن، تحت الآیۃ۶،جزئ۲۱،ص۹۸۔
2…روح المعانی، لقمٰن، تحت الآیۃ۶،جزئ۲۱،ص۹۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع