30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رقص اور اشعار کا حکم :
حضرت سیِّدُنا امام عز بن عبدُ السلام عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ السَّلَامسے عشقیہ اشعار سننے اور رقص کے متعلق پوچھا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے ارشاد فرمایا: ’’رقص بدعت ہے اور کوئی ناقص العقل ہی اس کا عادی ہو سکتا ہے۔ لہٰذا یہ عورتوں کو ہی زیب دیتا ہے اور ان اشعار کے سننے میں کوئی حرج نہیں جو اُمورِ آخرت کی یاد دِلا کر عالی مرتبہ احوال پر اُبھارنے والے ہوں۔ بلکہ ایسے اشعار سننا اس وقت مستحب ہے جب کوئی فتور اور مردہ دلی کا شکار ہو۔ البتہ! جس کے دل میں بری خواہشات ہوں وہ محفلِ سماع میں حاضر نہ ہو کیونکہ یہ اس کی دِلی خواہشات کو مزید اُبھارے گا۔ ‘‘ (۱)
سننے اور سنانے والوں کے اعتبار سے سماع کی اقسام:
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ مزید فرماتے ہیں کہ سننے اور سنانے والوں کے اعتبار سے سماع کا حکم مختلف ہوتا ہے۔ اگر وہ سب معرفت ِ الٰہی رکھتے ہوں تو ان کے احوال کے مختلف ہونے کی وجہ سے ان کا سماع بھی مختلف ہوتا ہے۔
{1}…جس پر خوفِ خداوندی غالب ہو تو خوف دلانے والی چیزوں کے ذکرکرنے سے اس میں اثرانداز ہوتاہے کہ اس کے غم اور آہ وبکا میں اضافہ اور رنگ متغیرہوجاتاہے اور اس کی یہ حالت عذاب کے خوف یا ثواب یااُنس و قربِ الٰہی کے فوت ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے اور ایسا شخص خوفِ الٰہی رکھنے والے یا محفلِ سماع میں حاضرہونے والے تمام لوگوں سے افضل ہوتا ہے اوراس میں قرآنِ حکیم کی تاثیر بھی دوسروں سے زیادہ ہوتی ہے۔
{2}…جس شخص پر اُمید غالب ہو تو اُمید دلانے والی چیزوں کے ذکر سے اس پر سماع اثر کرتا ہے۔ اُنس وقرب کی اُمید رکھنے والے کا سماع ثواب کی امید رکھنے والے کے سماع سے افضل ہے۔
{3}…جس پرانعاماتِ الٰہی کی وجہ سے اس کی محبت غالب ہو تو اس میں انعام واکرام کا سماع مؤثر ہو گا یا مطلق کمال کے سبب اس کی محبت غالب ہو تو اس میں ذات کی بزرگی اور کامل صفات کا سماع مؤثر ہو گا اور یہ بیان کردہ تمام لوگوں سے افضل ہے۔
{4}…جس پراللہ عَزَّوَجَلَّکی تعظیم واکرام کا غلبہ ہو وہ شخص مذکورہ تمام لوگوں سے افضل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع