30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نصرانی کو تکلیف دہ بات کہی اس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔‘‘ (۱)
’’سَمْعٌ ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ کسی کو ایسی بات کہنا جو اسے اذیت دے اور غیبت کی حرمت پر اس کی واضح دلالت کے بعد مزید کسی کلام کی گنجائش نہیں۔
حُجَّۃُ الْاِسْلَامحضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) نے مزید ارشاد فرمایا:’’اور باقی رہا حربی تو پہلی وجہ کی بنا پر اس کی غیبت کرنا حرام نہیں اور دوسری اور تیسری وجہ کی بنا پر مکروہ ہے۔ لیکن بدعتی اگر کفر بکے تو وہ حربی کی طرح ہے ورنہ مسلمان کی طرح۔ مگر اس کی بدعت کا ذکر کرنا مکروہ نہیں۔‘‘ اورحضرت سیِّدُنامحمد بن ابراہیم بن منذرنیشاپوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۳۱۹ھ)نے اس حدیث ِ پاک ’’تیرا اپنے بھائی کے بارے میں ایسی بات کہنا جسے وہ ناپسند کرے ۔‘‘ کے تحت فرمایا:’’اس میں دلیل ہے کہ یہود ونصاری اور تمام باطل مذاہب والے جو تیرے بھائی نہیں اور وہ جسے اس کی بدعت نے دینِ اسلام سے خارج کر دیا ہو، اُن کی کوئی غیبت نہیں۔‘‘ ’’اَ لْخَادِم‘‘میں ہے کہ’’ یہ قول علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اس قول سے ٹکراتا ہے جو انہوں نے اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرنے کے بارے میں کہا اور تعارض(یعنی اختلاف) واضح ہے۔ پس صحیح یہی ہے کہ ذمی کی غیبت بھی حرام ہے جیسا کہ پہلے ثابت ہو چکا ہے۔‘‘
تنبیہ5: غیبت کی اقسام
غیبت کی سابقہ تعریف سے یہ وہم کیا جاتا ہے کہ یہ زبان کے ساتھ خاص ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اس کے حرام ہونے کی علت یہ ہے کہ جس کی غیبت کی جارہی ہو اس کی خامی دوسرے کو بتا کر اسے ایذا دینا اور یہ علت اس صورت میں بھی موجود ہے جب آپ کسی دوسرے کو مبہم انداز میں کسی فعل سے یا ہاتھ، آنکھ سے اشارہ کرکے یا لکھ کراس کی ایسی خامی بتائیں جس کاذکر کرنا وہ ناپسند کرتا ہو۔
حضرت سیِّدُنا امام یحییٰ بن شرف نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ)فرماتے ہیں : ’’مذکورہ قسم کے غیبت ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔اسی طرح وہ سارے طریقے جو مقصود کو سمجھنے کی طرف لے جاتے ہیں جیسے کسی کی نقل اتارتے ہوئے چلنا پس یہ بھی غیبت ہے بلکہ غیبت سے بھی بڑھ کر ہے ۔جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الاحسان
بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب السیر، باب الذمی والجزیۃ، الحدیث:۴۸۶۰،ج۷،ص۱۹۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع