30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے بھی اسے مباح ہی کہااور جس نے بھی اسے اپنے دین کے لئے اس طرح چُن لیا کہ اس کی موجودگی ہی میں عبادت کرتا ہے تو وہ حسرت و نقصان میں مبتلا ہوا کیونکہ عاشقِ حقیقی اور عارِف باللہپر جب وَجْد کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو وہ حالت ِ مدہوشی میں (محبت و عشق کی وادیوں میں ) اس طرح سرگرداں ہو جاتا ہے کہ اسے اس حالت پر ملامت نہیں کی جاتی بلکہ اس کی تعریف کی جاتی ہے کیونکہ اسے حاصل ہونے والی لذات انتہائی عمدہ و پاکیزہ ہوتی ہیں۔
بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’آج کل کا سماع بلا شبہ حرام ہے کیونکہ اس میں بے شمار برائیاں شامل ہوگئیں ہیں جیسے مردوں عورتوں کا اختلاط اور عام لوگوں کا فضول کاموں میں مبتلا ہونا۔لہٰذا حاکم پر لازم ہے کہ انہیں اس سے روکے۔‘‘
اور حضرت سیِّدُنا قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے یہ بھی ذکر فرمایا کہ جس نے ہر مہینے میں کئی بار سماع کی عادت بنائی وہ فاسق ہو گیا اور اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اور اگر مہینے میں ایک بارکی عادت بنائی تو وہ فاسق تو ہو گا لیکن اس کی گواہی مردود نہیں ہو گی۔ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ قول کلامِ فقہاکے مفہوم کے برعکس ہے۔
سماع کی چندصورتیں :
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) فرماتے ہیں : ’’سماع کی 3 صورتیں ہیں : (۱)… یا تو یہ محمود(یعنی پسندیدہ) ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ جس پر محبت ِ الٰہی اور اس کی ملاقات کے شوق کا غلبہ ہو اس پر سماع کے ذریعے کشف وکرامات کے احوال ظاہر ہو جاتے ہیں۔ (۲)… یا پھر مباح ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے جائز عشق کرے یا سماع کے سبب اس پر محبت ِ الٰہی غالب آئے نہ کہ نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو۔ (۳)…یا پھر یہ حرام ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ سماع کے باعث کسی شخص پر حرام چیزوں کی محبت غالب آ جائے۔‘‘ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…روح المعانی، لقمٰن، تحت الآیۃ۶،جزئ۲۱،ص۹۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع