30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا امام بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیکے موقف کی تردید میں کئے گئے کلام سے اس قول کی بھی تردید ہوجاتی ہے جو حضرت سیِّدُنا امام تاج الدین سبکی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اپنی کتاب’’اَلتَّوْشِیْح‘‘ میں ذکر کیا کہ مجھے انتہائی جستجو کے باوجود یَرَاع کی حرمت پر کوئی دلیل نہیں ملی جو میرے نزدیک جائز ہے اگر اس کے ساتھ بھی کوئی دوسرا حرام آلہ ملا دیا جائے تو دونوں حرام ہو جائیں گے اور جو اہلِ ذوق نہیں ان کے لئے میرے نزدیک اَولیٰ یہ ہے کہ وہ اس سے مطلقًا اعراض کریں کیونکہ اس میں زیادہ تر نفسانی خواہشات ہی حاصل ہوتی ہیں جو کہ شرعی مقاصد میں سے نہیں اور جو اہلِ ذوق ہیں ان کی حالت اُنہیں کے سپرد کردی جائے گی اور اُن کا حکم اسی حالت و کیفیت کے مطابق ہو گا جو وہ اپنے دِلوں میں پاتے ہیں۔
سماع کا بیان وتحقیق
حضرت سیِّدُنا قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ امامُ الصوفیہ حضرت سیِّدُنا شیخ جنید بغدادی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ ’’محفلِ سماع میں شریک لوگ (۱)…یا عوام ہوتے ہیں حالانکہ بقائے نفوس کی خاطر ان کے لئے سماع حرام ہے (۲)…یازاہدین ہوتے ہیں کہ حصولِ مجاہدہ کی خاطر ان کے لئے سماع مباح ہے (۳)…یا پھر عارفین ہوتے ہیں کہ حیاتِ قلبی کی خاطر ان کے لئے سماع مستحب ہے۔‘‘ (۱)
(صاحب ِ’’قُوْتُ القُلُوب‘‘ )حضرت سیِّدُنا شیخ ابوطالب محمد بن علی حارثی مکیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے بھی اسی طرح ذکر فرمایا اور (سلسلۂ سہروردیہ کے بانی وامام) شیخ الشیوخ حضرت سیِّدُنا شہاب الدین ابو حفص عمر بن محمد سہروردی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے’’عَوَارِفُ الْمَعَارِف‘‘میں اسے صحیح قرار دیا۔
سیِّدُالطائفہ حضرت سیِّدُنا شیخ جنید بغدادی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے سماع کی اصطلاحی حرمت ذکر نہیں فرمائی بلکہ اُن کی مراد یہ ہے کہ سماع نہیں ہونا چاہئے۔ پھرحضرت سیِّدُنا قاضی حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے نظم کی صورت میں اپنے والد ِ محترم سے ایک فتویٰ نقل کیا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رقص کرنے اور دف بجانے میں اختلاف ہے اور بے شک شریعت نے اسے ہرگز عبادت قرار نہیں دیا اور جس نے اسے جائز قرار دیا اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… الرسالۃ القشیریۃ، باب السماع، ص۳۶۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع