30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَنْہُمَانے بھی آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیروی کرنے میں جلدی کی اور ان کے متعلق کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اتباع نہ کی ہو گی حالانکہ وہ صحابۂ کرام عَلَــیْہِمُ الرِّضْوَانمیں سب سے زیادہ اتباع کرنے والے تھے؟ اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا امام دَولَعِیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں : ’’یہ بات اس شخص کے دل میں کبھی نہیں کھٹک سکتی جو صحابۂ کرام عَلَـیْہِمُ الرِّضْوَان کی قدرومنزلت اور ان کے طریقے سے واقف ہو۔‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان کہ ’’یَاعَبْدَ اللہِ! ھَلْ تَسْمَعُ؟‘‘ کا معنی ہے، ’’یَاعَبْدَ اللہِ! تَسْمَعُ ھَلْ تَسْمَعُ؟ یعنی اے عبد اللہ! تم سُن رہے ہو، کیاآواز آرہی ہے؟‘‘ اور کلام کی اس پر دلالت واضح ہونے کی وجہ سے پہلا تَسْمَعُ گرا دیا کیونکہ جو شخص اپنے کانوں میں اُنگلیاں ڈال لے وہ نہیں سُن سکتا جبکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اس قدر سننے کی اجازت فقط حاجت کی وجہ سے دی گئی تھی۔‘‘
(۳)… تیسرا جواب یہ ہے کہ توجہ سے کان لگا کر سننا ممنوع ہے نہ کہ بلا ارادہ اتفاقاً سننا۔ اسی وجہ سے ہمارے شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے وضاحت فرمائی کہ جس کے پڑوس میں لھوولعب کے حرام آلات سنے جاتے ہوں اور وہ انہیں ختم نہ کرسکتا ہو تو اس کے لئے وہاں سے نقل مکانی(یعنی چلے جانا) ضروری نہیں اور وہ ارادے اور کان لگائے بغیر سننے سے گنہگار بھی نہ ہو گا۔
قائلینِ جواز کا رد کرتے ہوئے حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)فرماتے ہیں : ’’ نافع کے قول ’’زَمَّارَۃُ رَاعٍ‘‘(یعنی چرواہے کی بانسری )کے متعلق یہ ثبوت نہیں کہ وہ شَبَّابَۃ تھی کیونکہ چرواہے تو شُعَیْبَۃوغیرہ بجاتے ہیں جس کے متعلق وہم کیا جاتا ہے کہ جس کا نامشُعَیْبَۃہے وہ خالصتاً مباح ہے۔ لیکن میں نے کسی امام کو یہ کہتے ہوئے نہیں پایا۔ جبکہشُعَیْبَۃ چھوٹی چھوٹی چند لکڑیاں قطار میں جوڑ کر بنائی جاتی ہے اور اس سے اس کے عادی کے مزاج کے مطابق کیف ومستی پیدا ہوتی ہے اور یہ بھی بلا شبہ شَبَّابَہ یا مزمار ہی کی ایک قسم ہے۔
سیِّدُنا امام جلال بلقینیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی کے قول کی تردید:
حضرت سیِّدُنا امام بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے شَبَّابَہ کی اباحت کی طرف میلان کرتے ہوئے جو بات کہی، مذکورہ دلیل سے اس کا بھی رد ہوگیا اور وہ بات یہ ہے کہ حرمت کسی معتبر دلیل کے بغیر ثابت نہیں ہوتی اور حضرت سیِّدُنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع