30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بانسری کے جواز میں اختلاف
قائلینِ جواز کے دلائل:
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں : اس حدیث ِ پاک سے ہمارے شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے بانسریوں کی حرمت پر استدلال کیا اور اسی پر شَبَّابَہ میں حرمت کی بنیاد رکھی اور جو علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام اس کے مباح ہونے پر اس سے استدلال کرتے ہیں کہ سرکارِ نامدار ، مدینہ کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو کان بند کرنے کا حکم نہ دیا اور نہ ہی چرواہے کو منع فرمایا لہٰذایہ اس پر دلیل ہے کہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کراہت ِ تنزیہی کے طور پر ایسا کیا۔ یا پھر آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ذکر یا سوچ وفکر کی حالت میں تھے اور بانسری کی آواز خلل ڈال رہی تھی اس وجہ سے اپنے گوشِ اقدس (یعنی کان مبارک) بند فرما لئے۔
قائلینِ جواز کی تردید:
قائلینِ جواز کی تردید میں درج ذیل امور ذکر کئے جاتے ہیں :
(۱)…پہلا جواب تو یہ ہے کہ چرواہے کی بانسری در اصل ایسی نہ تھی جسے اس فن کے ماہر بناتے ہیں اور اسی میں اختلاف ہے، یعنی وہ بانسریاں جنہیں وہ مہارت سے بناتے ہیں اور جن کے تحت ان کی تمام خوش کُن انواع ہوتی ہیں اور یہ بات بھی معلوم شدہ ہے کہ چرواہوں کی بانسری بانس کی ہوتی ہے جو اس بانسری کی طرح نہیں ہوتی جسے کاریگری اور نفاست پسندی سے بنایا جاتا ہے بلکہ وہ ایسے طریقے پر بنائی جاتی ہے جس میں وہ ایسے نغمات ایجاد کرتے ہیں جو شہوت اُبھارنے کا باعث بنتے ہیں۔
(۲)… دوسرا جواب یہ ہے کہ نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کوکان بند کرنے کا حکم نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے نزدیک یہ بات ثابت شدہ تھی کہ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے افعال آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اقوال کی طرح حُجَّت ہیں۔ لہٰذا جب آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسا کیا تو حضرت سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع