30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تمام نغمات کو پورا کرنے والا ہے۔اور دیگر کہتے ہیں : یہ قیراط (یعنی دولت) میں کمی کا باعث بنتا ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام ابو العباس احمد بن عمر قرطبی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ( متوفی ۶۵۶ھ)فرماتے ہیں : ’’یہ بانسری کی اعلیٰ قسم ہے جن عِلَّتوں کی بنا پر بقیہ تمام بانسریاں حرام ہیں وہ تمام بلکہ ان سے بھی زیادہ عِلَّتیں اس میں پائی جاتی ہیں لہٰذا اسے بدرجۂ اَولیٰ حرام قرار دینا چاہئے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)فرماتے ہیں : ’’حضرت سیِّدُنا امام قرطبی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی( متوفی ۶۵۶ھ)کی بات واضح طور پر ثابت ہے اور اس میں اختلاف کرنا خواہ مخواہ جھگڑا کرنا ہے اور حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی حدیث جس کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے، اس میں حفَّاظِ حدیث کا اختلاف ہے اور اسی کو حضرت سیِّدُنا نافع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کیا کہ’’آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک چرواہے کی بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں اُنگلیاں رکھ لیں اور راستے سے ہٹ گئے اور فرماتے رہے: ’’اے نافع! کیا بانسری کی آواز سن رہے ہو؟‘‘ تو میں کہتا رہا: جی ہاں اور جب میں نے کہا: نہیں تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ راستے کی طرف لوٹ آئے پھر ارشاد فرمایا: ’’میں نے نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اسی طرح کرتے دیکھا۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا حافظ محمد بن نصر سلامی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَ انِیسے اس روایت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: ’’یہ حدیث صحیح ہے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اس وقت حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بالغ تھے کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی عمر 17 برس تھی۔‘‘ مزید فرمایا: ’’یہ شارِع عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی ذمہ داری ہے کہ اپنی اُمَّت کو سکھائے کہ بانسری، شبابہ اور ان کے قائم مقام دیگر آلاتِ موسیقی کا سننا حرام ہے اورسرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو رخصت دینا اس وجہ سے تھا کہ وہاں ایسی ضرورت ثابت تھی جس کا حل فقط یہی تھا کہ کبھی ضرورتاً ناجائز چیز مباح ہو جاتی ہے۔‘‘ پھرفرمایا: ’’پس جس نے اس (یعنی گانے باجے کے )معاملے میں رخصت دی وہ سنت کی مخالفت کرنے والا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان،کتاب الرقاق،باب الفقر والزہدوالقناعۃ، الحدیث:۶۹۲،ج۲،ص۴۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع