30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نفس کو ڈِھیل دینا پایا جاتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام شافعیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی سے لے کر آخر وقت تک بصری، بغدادی، خراسانی ،شامی، خزری ،پہاڑوں میں رہنے والے، حجازی،مَاوَرَائُ النَّھْر اور یمن میں رہنے والے سب اسی مذہب پر قائم ہیں اور حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکے واقعہ سے استدلال کرتے ہیں۔ حضرت سیِّدُنا امام دَولَعِیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا کلام اپنے اختتام کو پہنچا۔
گویا حضرت سیِّدُنا امام دَولَعِی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے مذکورہ کلام کی ابتدا میں حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) پر تعریض کی (یعنی اُن کی طرف اشارہ کیا) گویا یہ اُن کے ہم زمانہ تھے کیونکہ اِن کی ولادت اُن کی وفات کے 10 سال بعدہوئی۔
حضرت سیِّدُنا امام جمال الاسلام بن بِزْریعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے فتاویٰ میں فرماتے ہیں : ’’بلا شبہ شَبَّابَہ بھی ایک قسم کی بانسری ہے جس کی حرمت نص سے ثابت اور مشہور ہے ۔اس کا انکار کرنا واجب اور سننا حرام ہے اور علمائے متقدمین رَحِمَہُ اللہُ الْمُبِیْنمیں سے کسی نے اس کی حِلَّت اور اس کے سننے کے جواز کا قول نہیں کیا اور جس نے اسے حلال اور ا س کا سننا جائز قرار دیا وہ خطا کرنے والا ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام ابو الحسن علی بن محمد ماوردی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کا یہ قول ضعیف بلکہ شاذ ہے کہ شہر میں غیرمعقول استعمال کی وجہ سے شَبَّابَہ مکروہ ہے لیکن سفر اور چراگاہ میں مباح ہے کیونکہ یہ چلنے پر اُبھارتی اور جب چوپاؤں کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہو تو انہیں اکٹھا کرتی ہے۔ (پھرمصنِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ اس قول میں نہایت ہی ضعیف احتمال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :) مطلق حِلَّت کے قول کی طرح اس صورت پر محمول کر دیا جائے کہ جس طرح بچے اور چرواہے موسیقی کے کسی قانون کو مدّ ِ نظر رکھے بغیر بجاتے ہیں اور وہ بھی ایسے کہ جس کی ایک ہیلَے(یعنی سُر)ہو کیونکہ اس وقت یہ حِلَّت کے قریب ہو گی جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) نے فرمایا، مزیدفرماتے ہیں کہ اگراسے مسرت پیدا کرنے والے معروف انداز پر بجایا جائے تو یہ مطلقًا حرام ہے۔ بلکہ یہ(یعنی شبابہ) ان تمام بانسریوں سے زیادہ حرام قرار دیئے جانے کے لائق ہے جن کی حرمت پر اتفاق ہے کیونکہ اس سے کیف ومستی زیادہ پیدا ہوتی ہے اور یہ شرابیوں اور فاسقوں کا شعار ہے اور بعض کاریگر کہتے ہیں : یہ ایک ایسا مکمل آلہ ہے جو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع