30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے ساتھ خاص ہے اور مردوں کو ان کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ انہیں زعفرانی لباس پہننے سے منع کیا گیا ہے۔
مذکورہ کلام جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام زرکشیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا، تقاضا کرتاہے کہ یہ مکروۂ تحریمی ہے کیونکہ عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا حرام بلکہ کبیرہ گناہ ہے۔
تیسرا قول اور اس کا ردِّ بلیغ:
انہیں اقوال میں سے ایک قول حضرت سیِّدُنا امام رافعی(متوفی ۶۲۳ھ)،سیِّدُنا امام ماوردی، سیِّدُناامام خطابی (متوفی۳۸۸ھ)، سیِّدُنا امام رویانی، سیِّدُنا امام غزالی(متوفی۵۰۵ھ) سیِّدُناامام محمد بن یحییٰ، سیِّدُنا امام باجرمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمکا بھی ہے کہ’’یَرَاع‘‘ جائز ہے (یہ بھی بانسری کی ایک قسم ہے) اسے شَبَّابَہ (یعنی مدہوش کر دینے والا بانسری جیسا آلہ) بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ سفر میں چلنے پر حُد ِی خوانی کی طرح چُستی پیدا کرتا ہے۔
یہ قول شاذ ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) نے فرمایا، جمہور ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اسے حرام قرار دیا اور حضرت سیِّدُنا امام ابوزکریا یحییٰ بن شرف نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ)نے بھی اسی قول کو ترجیح دی جسے حضرت سیِّدُنا ابنِ ابی عصرون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے درست قرار دیتے ہوئے فرمایا:بلکہ یہ(یعنی یَرَاع) ان تمام بانسریوں سے زیادہ حرام قرار دیئے جانے کے لائق ہے جن کی حرمت پر اتفاق ہے کیونکہ اس سے کیف ومستی زیادہ پیدا ہوتی ہے اور یہ شرابیوں اور فاسقوں کا شعار ہے اور اس وجہ سے بھی کہ یہ اہلِ موسیقی کے نزدیک ایک ایسا مکمل آلہ ہے جو تمام نغمات کو پورا کرنے والا ہے اورایک قول کے مطابق یہ قیراط (یعنی دولت) میں کمی کا باعث بنتا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ بانسری کی اعلیٰ قسم ہے اور جن علتوں کی بنا پر بقیہ تمام بانسریاں حرام ہیں وہ تمام بلکہ ان سے بھی زیادہ علتیں اس میں پائی جاتی ہیں لہٰذا اسے بدرجۂ اَولیٰ حرام قرار دینا چاہئے اور اس مسئلہ میں اختلاف کرنا بلاوجہ جھگڑا کرنے کے مترادف ہے۔
یہی حرمت کا قول منقول کے مطابق ہے کیونکہ اسی پر حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی اور جمہور ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے نص قائم فرمائی ہے۔ اسی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس سے کم کیف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع