30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور کبھی لفظِ عود کا اطلاق دیگر آلاتِ موسیقی پر بھی ہوتا ہے۔ اس کے متعلق حضرت سیِّدُنا امام عمرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَ انِیاور کئی شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا کلام یہ ہے کہ ’’آلاتِ موسیقی سے پیدا ہونے والی آوازیں 3 اقسام پر مشتمل ہیں ان میں سے ایک حرام ہے اور یہ وہ آلات ہیں جن سے بغیرگانے کے بھی کیف ومستی حاصل ہوتی ہے جیسے سارنگی، ستار، ڈھول، بانسریاں ، باجے، پائپ کی بانسریاں ،نقارے، سارنگی کی مثل ایک تار والے باجے اور آخری دو کے مشابہ آلات موسیقی ۔‘‘
مزامیر کی اقسام:
مزامیرصُرْنَای(بانسری کی طرح کا ایک باجا) کو بھی شامل ہے اور اس سے مراد بانس کی ایسی لکڑی ہے جس کا ایک سِرا تنگ اور دوسراکافی کھلا ہوتا ہے اور یہ قافلوں اور جنگوں میں اور نقاروں پر بجایا جاتا ہے اوریہ(مزامیر) کِرْجَۃ کو بھی شامل ہے اور یہ بھی صرنای کی مثل ہے مگر اس میں بانس کے نچلے حصے میں تانبے کا ایک ٹیڑھا ٹکڑا رکھا جاتا ہے جو دیہاتوں میں شادی کے موقع پر بجایا جاتا ہے اوریہ (مزامیر) نَایکو بھی شامل ہے(جو کہ بانسری کی مثل ایک باجا ہے) ۔ یہ پہلی دونوں قسموں سے زیادہ خوش کُن ہوتا ہے اور یہ دو ملی ہوئی لکڑیاں ہوتی ہیں۔ایک قول کے مطابق سب سے پہلے بنی اسرائیل نے بانسریاں بنائیں۔
تکیہ بجانے کاحکم:
حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) فرماتے ہیں کہ تکیوں پر کٹی ہوئی شاخیں مارنا عراقیوں کے نزدیک مکروہ ہے لیکن صاحب ِ مُہَذَّب نے اس میں حرمت کو ترجیح دی ہے اور’’اَلْکَافِی‘‘ میں اہلِ مراوزہ کے حوالے سے اسے حرام کہا گیا ہے(مراوزہ ایک شہر کانام ہے)۔ اس پر اعتراض کیاگیا ہے کہ ان کے اکابر میں سے حضرت سیِّدُناشیخ ابوعلیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِینے اس کے مکروہ ہونے پر جزم کیا ہے اور صاحب ِ کافی نے کٹی ہوئی شاخ سے پیٹنے کو سماع میں تالیاں بجانے کے ساتھ ملایا ہے۔
مَردوں کا تالیاں بجانا کیسا؟
حضرت سیِّدُنا امام حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں کہ مردوں کے لئے تالیاں بجانا مکروہ ہے کیونکہ یہ عورتوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع