30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{75}… جب انہوں نے ایک عورت کی طرف اشارہ کیا کہ وہ پست قد ہے توآپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’بے شک تو نے غیبت کی ہے، اُٹھ اور اس کا کفارہ ادا کر۔‘‘ (۱)
یہاں پر ’’اَ لْخَادِم‘‘ کے کلام کا خلاصہ ختم ہو گیا ۔
اور صاحب خادم نے اپنے شیخ حضرت سیِّدُنا امام شہاب الدین اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) کے حوالے سے علامہ قفال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَلَال(متوفی۳۶۵ھ) کاجو قول نقل کیا ہے اس پر عمل کیا جائے گااور کسی شرعی مقصد کے بغیرعلامہ قفال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَلَال(متوفی۳۶۵ھ) کا غیبت کے جواز کا قول ضعیف ہے اور ان کی ذکر کردہ حدیث ِ پاک غیر معروف ہے اور اگر صحیح بھی ہو تو بھی اسے ضرورت کی صورت پر محمول کرنا متعین ہے اور ’’اَلتَّوَسُّط‘‘ میں ہے کہ ’’علامہ قفال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَلَال(متوفی۳۶۵ھ) کے کلام میں جو حدیث ِ پاک ذکر کی گئی ہے اس کی کوئی اصل نہیں کہ اس کی طرف رجوع کیا جا ئے۔‘‘
ذمی کافر کی غیبت کا حکم:
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) سے کافر کی غیبت کے بارے میں سوال کیاگیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کی غیبت3 وجوہات کی بنا پر حرام ہے: (۱)ایذا دینا (۲)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی تخلیق میں خامی نکالنا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّہی بندوں کے افعال کا خالق ہے اور (۳)بے مقصد کام میں وقت ضائع کرنا۔‘‘ مزید ارشاد فرمایا کہ’’پہلی وجہ حرام ہونے، دوسری مکروہ ہونے اور تیسری خلافِ اَولیٰ ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔بعض احکام میں ذمی بھی مسلمان کی طرح ہی ہوتا ہے کہ اسے بھی ایذا دینے سے منع کیا گیا ہے اور بے شک شریعت نے اس کی عزت، خون اور مال کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔‘‘ اور ’’اَ لْخَادِم‘‘ میں ارشاد فرمایا کہ ’’اسی قول کا صحیح ہونا اَولیٰ ہے۔‘‘ اور حضرت سیِّدُنامحمدبن حبان عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْحَنَّان( متوفی۳۵۴ھ)نے’’صَحِیْحُ ابْنِ حَبان‘‘ میں روایت کیا ہے کہ،
{76}…رحمت ِ عالم ،نُورِ مجسَّم صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے:’’جس نے کسی یہودی یا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم۴۴۵ الحسن بن عمارۃ،ج۳،ص۱۱۴۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع