30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’اَ لْبَحْر‘‘ میں شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامسے مطلقا ً تالیاں بجانے کی حرمت منقول ہے اور’’اَلْخَادِم‘‘ میں ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِینے وضاحت نہیں فرمائی کہ تالیاں بجانے سے کیا مراد ہے؟
حضرت سیِّدُنا امام ابنِ ابی الدم عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں کہ جھانجھ کے متعلق متأخرین فقہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اختلاف ہے۔ ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہ آبنوس کی بہت مضبوط لکڑی ہوتی ہے، اس بات کو یہ علَّت بیان کرنا تقو ِیَّت دیتا ہے کہ یہ شرابیوں کی عادت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد پیتل سے بننے والی جھانجھیں ہیں جو ڈھولوں ، سارنگیوں اور نقاروں کے ساتھ بجائی جاتی ہیں اور یہ بات اس کو ضعیف قرار دیتی ہے کہ یہ نہ تو کیف ومستی پیدا کرتی ہے اور نہ ہی کوئی صحیح الدماغ اور عقلِ سلیم کا مالک شخص اس کو سن کر لذَّت حاصل کرتا ہے۔
آلاتِ موسیقی کی اقسام مع احکام:
{1}…’’اَ لْحَاوی‘‘ میں ہے کہ لَـہْوولَعْب کے آلات یا تو حرام ہیں جیسے سارنگی، ستار، گانے بجانے کے آلات، ڈھول، بانسری اور ہر وہ آلۂ موسیقی جس کی آواز سے علیحدہ طور پر کیف ومستی حاصل ہو۔
{2}…یا یہ آلات مکروہ ہیں یعنی جو گانے کے ساتھ تو کیف ومستی میں اضافہ کریں لیکن علیحدہ طور پر کسی کیف کا باعث نہ بنیں جیسے جھانجھ اور نرسل۔ لہٰذا ان کو گانے کے ساتھ بجانا مکروہ ہے ورنہ نہیں۔
{3}…یا مباح ہیں اور ان سے مراد وہ آلات ہیں جن سے پیدا ہونے والی آواز کیف ومستی سے نکال کر ڈرانے کی طرف لے جائے جیسے بِگِل یا جنگ کا نقَّارہ بجانا یا لوگوں کو اکٹھا کرنے یا اعلان کرنے کے لئے کوئی آلہ بجانا جیسے نکاح میں دف بجانا۔
جھانجھ کے متعلق جو کچھ مذکور ہوا وہ شاذ ہے جیسا کہ بیان ہو چکا ہے اس کا محل یہ ہے کہ اگر اس کی تفسیر یہ کی جائے کہ اس سے مراد تالیاں بجانا نہیں ورنہ اس میں کوئی کیف وسرور نہیں ہوتا۔ ہاں ! بعض ممالک میں ہیجڑے ان کے عادی ہوتے ہیں تو اس صورت میں حرمت متحقق ہوجاتی ہے اس کی وجہ ڈگڈگی بجانے کے بیان میں آئے گی۔
طنبور(ستار) عود(سارنگی)سے مختلف ہوتا ہے جیسا کہ ان کے کاریگروں میں مشہور ہے۔ البتہ! اہلِ لغت کہتے ہیں کہ طنبور عود کو ہی کہتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عود اور طنبور وغیرہ اسمِ جنس ہیں جن کے تحت مختلف اقسام آتی ہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع