30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نیز جب اسے حاجت ِمرض کی وجہ سے مباح ٹھہرایا گیا ہے تو اس کو بطورِ علَّت بیان کرنے پراکتفا نہ کیا جائے بلکہ قطعی طور پر اس کے جواز کا حکم دینا چاہئے بشرطیکہ علاج اسی پر منحصر ہو جیسا کہ ا یسی حالت میں کسی نجس چیز کے ساتھ علاج کرنا بھی جائز ہو جاتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام حلیمی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِـی نے اپنی کتاب’’مِنْھَاج‘‘ میں قطعی طور پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ آلاتِ لھوجب بعض امراض میں نفع دیں تو انہیں سننا جائز ہے۔ اس پرحضرت سیِّدُنا ابنِ عماد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوادنے فرمایا: ’’آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہکا قول ثابت ہے۔‘‘ اور معاملہ یونہی ہے جیسے انہوں نے فرمایا لہٰذا اس وقت اس وجہ کی کوئی حقیقت نہ رہے گی۔پس یہ بات واضح ہو گئی کہ شیخین کا یہ بیان کرنا صحیح ہے کہ آلاتِ موسیقی میں کوئی اختلاف نہیں اور یہ سب بلااختلاف حرام ہیں۔
گمراہ ابنِ طاہر کا ردِ ّ بلیغ:
ابنِ طاہر نے صاحب ِ تَنْبِیْہکے متعلق بیان کیا کہ وہ بانسری کا سننا نہ صرف جائز قرار دیتے بلکہ سنتے بھی تھے اور ان کے متعلق یہ بات مشہور ہے اور ان کے ہم عصر کسی عالم نے ان کا رد نہ کیابلکہ اس کے جائز ہونے پر اہلِ مدینہ کا اتفاق ہے۔
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے ابنِ طاہر کا رد کرتے ہوئے فرمایا: ’’وہ ناعاقبت اندیش(یعنی بے وقوف)، ممنوع کاموں کو مباح قرار دینے والا، بہت بڑا جھوٹا اور گندے عقیدے کا مالک تھا۔‘‘
اسی وجہ سے حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)نے مذکورہ کلام ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’ ابنِ طاہر کا ایساکرنا ناعاقبت اندیشی ہے حالانکہ یہ (یعنی بانسری سننا) مدینۂ منورہ کے بے حیا اور بے کار لوگوں کا عمل تھا اور ’’صاحب تنبیہ‘‘ کی طرف اس کی نسبت کرنا قطعی طور پرباطل ہے جیسا کہ میں نے ان کی کتاب کے بابُ السِّمَاع میں دیکھا ہے اور انہوں نے اپنی کتاب’’اَلْمُہَذَّب‘‘ا ور’’اَلْوَصَایَا‘‘میں بانسری کو حرام قرار دیا ہے بلکہ ان کی کتاب تَنْبِیْہکا کلام بھی یہی تقاضا کرتا ہے اور جو شخص ان کا حال، پرہیزگاری کی انتہا اور تقویٰ کی پختگی جان لے گا وہ ان کے اس سے دور اور پاک ہونے کا یقین کر لے گا اور عقل مند شخص کسی ایسے پرہیز گار بندے کے متعلق یہ گمان کیسے کرے گا کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے دین میں ایسی بات کہے گا کہ خود جس کے خلاف عمل کرتا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ اس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع