30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کہ یہ قول باطل ہے بلکہ وہ اپنے مکانوں میں ایسی چیزیں رکھتے ہیں جن سے گانے باجے کے آلات کی آواز ظاہر نہیں ہوتی بلکہ علانیہ فسق وفجور میں مبتلا رہنے والے اربابِ حکومت بھی ایسے آلات کُھلے عام رکھتے ہیں۔‘‘
آلاتِ موسیقی سے ممانعت کی وجوہات:
’’اِحْیَاءُ الْعُلُوْم‘‘میں ہے: ’’ (شراب کی اتباع میں )گانے بجانے کے آلات کی حرمت 3 وجوہات کی بناپرہے:
(۱)… آلاتِ موسیقی شراب نوشی کی دعوت دیتے ہیں اور ان سے حاصل ہونے والی لذات شراب نوشی کی طرف لے جاتی ہیں اور اسی علت کی وجہ سے تھوڑی سی شراب پینا بھی حرام ہے۔
(۲)…جس نے چند دن سے شراب پینا ترک کیا ہو تو یہ آلات اسے شراب کی مجالس یاد دلاتے ہیں اور یاد سے شوق اُبھرتا ہے اور جب شوق زیادہ ہوتا ہے تو شراب پینے کی جرأت پیداہوتی ہے۔
(۳)… آلاتِ لہو ولعب پر اکٹھا ہونا فاسقوں کی علامت بن چکا ہے ساتھ ہی ان سے مشابہت بھی پائی جاتی ہے اور جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرتاہے وہ انہی میں سے ہوتا ہے۔ (۱)
آلاتِ موسیقی کے جواز پرچند باطل اقوال
اور اُن کی تردید
گزشتہ بحث میں آلاتِ موسیقی کی حرمت پر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا اتفاق بیان کیا جا چکا ہے مگراس کی مخالفت میں درج ذیل باطل اقوال اور کمزور آراء پائی جاتی ہیں :
پہلا قول اور اس کا ردّ ِ بلیغ:
پہلا قول ابنِ حزم کا ہے کہ سارنگی کی حرمت کے متعلق کوئی صحیح حدیث نہیں۔ حالانکہ حضرت سیِّدُنا عبداللہبن عمر اور حضرت سیِّدُنا ابن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمنے ا س کی آواز سنی ۔
ابنِ حزم نے ظاہری قبیح فرقہ(یعنی غیر مقلِّدیت و وہابیت) پر جموداختیار کرنے کی وجہ سے ایسی بات کہی اور سارنگی حرام کیوں نہ ہوگی جبکہ یہ بھی تو آلاتِ موسیقی میں سے ہے اور اس کی حرمت پر صحیح حدیث ِ پاک ابھی گزری ہے اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء علوم الدین،کتاب آداب السماع والوجد، بیان الدلیل علی إباحۃ السماع، ج۲،ص۳۳۶،۳۳۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع