30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقام پر اس کی تصریح کی کہ جب کوئی عادِل راوی عادِل راوی کو پاکر اس سے روایت کرتا ہے تو یہ بات اس کے سماع (یعنی احادیث سننے) اور ملاقات پر محمول ہوتی ہے۔ اب خواہ وہ کہے:اَخْبَرَنَایا حَدَّثَنَایا عَنْ فُـلَانٍ یا قَالَ فُـلَانٌ ۔تو ان میں سے ہر لفظ اس کے سماع پر دلالت کرتا ہے۔
ابنِ حزم کے کلام میں ٹکراؤ دیکھئے کہ اس نے حضرت سیِّدُنا امام بخاری عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی کی اس روایت کے خلاف حکم دیا۔ حضرت سیِّدُنا ابو مالک اَشْعَرِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’میری اُمَّت میں ضرور ایک ایسی قوم ہو گی جو زنا، ریشم، شراب اور گانے باجے کے آلات کوحلال جانے گی۔‘‘ (۱)
یہ حدیث ِ پاک کیف ومستی اور لہوولعب والے آلات کے حرام ہونے کے متعلق صریح ہے اور شیخین(یعنی امام نووی وامام رافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمَا) نے بیان کیا ہے کہ عراقی بانسری اور دوسرے آلاتِ موسیقی بجانے کے حرام ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔
ابن حزم اور اس کی پیروی کرنے والوں کی نفس پرستی پر تعجب ہے کہ انہوں نے تعصُّب کی انتہا کرتے ہوئے اس روایت اور اس باب میں مروی دیگر تمام روایات کو موضوع قرار دے دیا اور یہ ان کی جانب سے واضح جھوٹ ہے۔ لہٰذا اس معاملے میں کسی کے لئے اس کے کسی قول پر اعتماد کرنا جائز نہیں۔
حضرت سیِّدُنا امام ابو العباس احمد بن عمر قرطبیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’بانسری، آلاتِ موسیقی اور طبلہ یا ڈگڈگی کی آواز سننے کی حرمت میں کوئی اختلاف نہیں اور میں نے سَلَف وخَلَف(یعنی پہلے اور بعد والے) کسی بھی معتبر امام کے حوالے سے اس کے جواز کا کوئی قول نہیں سنااور یہ حرام کیوں نہ ہو حالانکہ یہ چیزیں شرابیوں اور فاسقوں کا شعارہیں اور شہوتوں ، فتنہ وفساد اور بے حیائی کو پھیلانے والی ہیں اور جو چیز ایسی ہو اس کی حرمت میں کوئی شک نہیں اور نہ ہی ایسا کرنے والے کے فاسق اور گنہگار ہونے میں کوئی شک ہے۔‘‘
بعض شارِحینِ مِنْھَاج فرماتے ہیں : ’’بانسری شرابیوں کا شِعار نہیں بلکہ اکثر ان کے پاس ہوتی ہی نہیں۔ اس لئے کہ اس سے ان کا حال ظاہر ہو جاتاہے۔ لیکن حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)فرماتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح البخاری،کتاب الاشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر ویسمیہ بغیر اسمہ، الحدیث:۵۵۹۰،ص۴۸۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع