30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِک (پ۱۵،بنی اسرائیل:۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ڈگا دے(بہکادے) ان میں سے جس پر قدرت پائے اپنی آواز سے ۔
آیت ِ مبارکہ کی تفسیر:
حضرت سیِّدُنامجاہد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدنے اس کی تفسیر گانوں باجوں کے ساتھ کی۔
سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عبرت نشان ہے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ طنبورہ، سارنگی اور ڈُگڈُگی بجانے والے کے علاوہ ہر گنہگار کو معاف فرما دیتا ہے۔‘‘ (۱)
تنبیہ:
مذکورہ 6 گناہوں کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض کے بارے میں اکثر کا یہی مؤقف ہے اور دیگر کوانہی پر قیاس کی گیا ہے بلکہ’’اَلشَّامِل‘‘میں تمام کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا جیسا کہ عنقریب اس کی وضاحت آئے گی۔
گانے باجے کاحکم:
حضرت سیِّدُنا امام الحرمین عبد الملک بن عبداللہجوینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں کہ میرے شیخ (یعنی والدِ محترم) حضرت سیِّدُنا ابو محمدعبداللہ جوینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ گانے باجے سننا گواہی مردود ہونے کا موجب نہیں بلکہ اس پر اصرار کرنے سے یہ مردود ہوتی ہے اور عراقیوں اور ہمارے عظیم شافعی ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اسے قطعی طور پر گناہِ کبیرہ قرار دیا اور حُجَّۃُ الْاِسْلَامحضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی (متوفی۵۰۵ھ)نے بھی یہی فرمایا۔
دونوں فرماتے ہیں کہ گانے بجانے کے آلات سننے کے بارے میں ہمارا مذکورہ کلام اس صورت کے متعلق ہے کہ جب ایک مرتبہ اس کا ارتکاب کرنا مدہوشی ومستی نہ لائے ورنہ ایک بار سے ہی گواہی مردود ہو جائے گی۔
حضرت سیِّدُنا امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کے نزدیک یہ حکم ہر اس چیز کے متعلق عام ہے جو گانے باجے کی مثل ہو اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کے عراقیوں کی طرف منسوب کردہ قول میں توقُّف کرتے ہوئے حضرت سیِّدُنا امام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…النہایۃ فی غریب الحدیث: والأثر، باب العین مع الرائ، عرطب، ج۳،ص۱۹۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع