30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیِّدُنا امام بیہقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی( متوفی۴۵۸ھ) نے جس بات پر مذکورہ حدیث کو محمول کیا یہ متعین ہے اور انہوں نے اپنے استاذ حضرت سیِّدُناابوعبداللہمحمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۴۰۵ھ) سے نقل کیا کہ یہ حدیث صحیح نہیں اور اسے ان الفاظ سے لائے ہیں کہ،
{73}…سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’فاسق کی کوئی غیبت نہیں۔‘‘ (۱)
مسلم شریف کی حدیث ِ پاک کا عام حکم اس حدیث کے خلاف ہے جس میں غیبت کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ’’تیرا اپنے بھائی کے متعلق ایسی بات کرنا جسے وہ ناپسند کرے۔‘‘(۲)اور ’’اِحْیَائُ الْعُلُوْم‘‘میں غیبت کی تعریف جس پر امت کا اجماع ہے وہ یہ ہے کہ ’’اپنے بھائی کے متعلق ایسی بات کرنا جسے وہ ناپسند کرے۔‘‘ (۳) اورحدیث ِ پاک میں بھی یہی تعریف ہے اور یہ تمام علامہ قفال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَلَال (متوفی۳۶۵ھ)کے مؤقف کورد کرتا ہے۔
جن لوگوں کی غیبت کرنا جائز ہے، ان میں سے ایک وہ ہے جو اعلانیہ فسق کا ارتکاب کرے اس اعتبار سے کہ اس کا ذکر کرنے میں کوئی عار نہ ہو جیسے ہیجڑا، بھتہ لینے والے اور لوگوں کا مال چھیننے والا۔ فاسق جس گناہ کا اعلانیہ ارتکاب کرے اس کے بیان کرنے میں کوئی گناہ نہیں ، کیونکہ ضعیف سند کے ساتھ ایک حدیث ِ پاک موجود ہے کہ،
{74}…سیِّدعالم ،نُورِمجسَّم صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ ذیشان ہے:’’جس نے حیا کی چادر اتار دی اس کی کوئی غیبت نہیں۔‘‘(۴)
حضرت سیِّدُنامحمد بن ابراہیم بن منذرنیشاپوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی(متوفی۳۱۹ھ)ارشاد فرماتے ہیں :’’کسی انسان کی تنقیص کرتے ہوئے اس کے کسی عیب کی طرف اشارہ کرنا زبان سے کہنے کے قائم مقام ہے۔‘‘ پھر آپ نے حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مروی حدیث ِ پاک ذکر کی کہ،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیھقی ،باب فی الستر علی اصحاب القروف ،تحت الحدیث:۹۶۶۵،ج۷،ص۱۰۹۔
2… صحیح مسلم ،کتاب البر والصلۃ والادب ، باب تحریم الغیبۃ ، الحدیث:۶۵۹۳،ص۱۱۳۰۔
3…احیاء علوم الدین،کتاب آفات اللسان،الآفۃ الخامسۃ عشرۃ الغیبۃ، بیان معنی الغیبۃ وحدودہا،ج۳،ص۱۷۸۔
4…مکارم
الاخلاق لابن ابی الدنیا ،باب ذکر الحیاء وما جاء فیہ ،الحدیث:۱۰۲،ص۸۷۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع