30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بارے میں ہے وہی حکم چودہ مُہروں ، صَدْر، سُلْفَہ ، ثَوَاقِیْل ، کِعَاب ، رَبَارِیْب اور ذَ رَّافَات کے ساتھ کھیلنے کے متعلق ہے(یہ عربوں کے چند کھیل ہیں ) اور فرمایا:’’ جو شخص اس جنس کا کوئی بھی کھیل کھیلے وہ بے وقوف اور مردودُ الشہادۃ ہے خواہ اس میں جوا ہو یا نہ ہو۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں : ’’ذکر کردہ بعض کھیلوں کے متعلق میں نہیں جانتا۔‘‘
۞۞۞۞۞۞۞
کبیرہ نمبر446: گانے بجانے کے آلات بجانا
کبیرہ نمبر447: گانے بجانے کے آلات سُننا
کبیرہ نمبر448: بانسری بجانا
کبیرہ نمبر449: بانسری سننا
کبیرہ نمبر450: طَبْلَہ یا ڈگڈگی بجانا
کبیرہ نمبر451: طَبْلَہ یا ڈگڈگی سننا
کھیل تماشے کی مذمت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْتَرِیۡ لَہۡوَ الْحَدِیۡثِ لِیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ بِغَیۡرِ عِلْمٍ ٭ۖ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۶﴾ (پ۲۱، لقمٰن:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے اور اسے ہنسی بنالیں ان کے لئے ذلت کا عذاب ہے ۔
آیت ِ مبارکہ کی تفسیر:
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اور حضرت سیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ لَہۡوَ الْحَدِیۡثِ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کھیل کے آلات ہیں۔ عنقریب اس کی وضاحت آئے گی۔ دوسرے مقام پر ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع