30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ابوحامد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد کی تعلیق کے حوالے سے حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) کی حکایت اور ان کی بحث کوذکر کرکے اسے برقرار رکھا۔ حضرت سیِّدُنا امام اِسْنَوِیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) کی سابقہ قِرْق والی بحث سے ان دونوں (یعنی حُزَّۃ اور قِرْق)کا جائز ہونا معلوم ہوتا ہے کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک میں دارومدارغور وفکر پر ہوتا ہے نہ کہ اس چیز پر جسے پھینکا جا رہا ہو اور اَلرَّوْضَۃ میں یہ بحث چھوڑ دی۔ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) نے حضرت سیِّدُنا سلیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ وغیرہ کے ذکر کردہ اس کلام پر اعتراض کیا کہ یہ دونوں چوسر کے معنی میں برابر ہیں کیونکہ اگر ان دونوں میں غوروفکر پر اعتماد ہوتا تو دونوں کاحکم چوسر کی طرح نہ ہوتا۔ پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے فرمایا: ’’شاید! شہروں کے عرف و عادت وغیرہ کے مختلف ہونے سے حکم بدلتا رہتا ہے۔‘‘ صحیح یہ ہے کہ اس میں بہت زیادہ اختلاف نہیں کیونکہ جب قاعدہ معروف اور ثابت ہو تو حکم کا دارومدار اسی پر ہوتا ہے۔ لہٰذا جب اس میں غوروفکر اور حساب پر اعتماد ہو تو شطرنج کی طرح جائز ہونے کے علاوہ کوئی صورت نہیں اور جب اندازے پر اعتماد ہو تو چوسر کی طرح حرام ہونے کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) کا گزشتہ فیصلہ اورحضرت سیِّدُنا ابو الحسن علی بن محمد ماوردی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکا صحیح قول یہ ہے کہ چوسر کھیلنا حرام اور فسق ہے اور اس سے گواہی مردود ہوجاتی ہے اور اکثر علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کا بھی یہی مؤقف ہے۔ اسی طرح چودہ مُہروں کے ساتھ کھیلا جانے والا کھیل اور اس جیسے دیگرکھیل چوسر کی طرح حرام ہیں اور وہ کھیل بھی حرام ہے جسے عام لوگطَاباوردُک کہتے ہیں کیونکہ اس میں اعتماد اس شے پر ہوتا ہے جسے نرکل کے 4 حصے نکالتے ہیں اور اس سے دل میں خوشی ہوتی ہے اگرچہ یہ کھیل جوا اور بے ہودگی سے خالی ہوتا ہے مگر بعض اوقات اس کی طرف لے جاتا ہے (لہٰذا یہ بھی حرام ہے)۔
اَلْخَادِم میں ایسا ہی کلام ذکر کیا اور فرمایا: ’’گنجفہ بھی اسی کی مثل ہے۔(یہ ایک ناجائز کھیل ہے، اس کی تعریف صفحہ نمبر731پرحاشیہ میں ملاحظہ فرمائیے) اور مسابقت (یعنی مقابلۂ تیر اندازی) کے باب میں اَنگُوٹھی کے ساتھ کھیلنے کے متعلق حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) کا کلام اسی حکم کا تقاضا کرتا ہے اور جو حکم چوسر کھیلنے کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع