30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاتے ہیں ،14 ایک طرف اور چودہ دوسری طرف اور ان کے ساتھ کھیلا جاتا ہے۔ شاید! یہ دو قسم کے کھیل ہوں لہٰذا دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔
قِرْق کی تعریف:
اس کا تلفُّظ قِرْق ہے مگرحضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) نے قاضی رویانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَ انِی کی تحریر سے اس کے دونوں حروف کو مفتوح کہا ہے (یعنی قَرَق) اور قِرْق مغربی شطرنج کو کہتے ہیں یعنی زمین پر ایک چوکور خط لگایا جاتا ہے اور اس کے درمیان صلیب کی طرح دو خط کھینچے جاتے ہیں ، پھر خطوں کے سروں پر چھوٹے چھوٹے کنکر رکھ کر کھیلا جاتا ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) فرماتے ہیں :’’اَلشَّامِل میں ہے کہ اِن دونوں (یعنیحُزَّۃاورقِرْق) کے ساتھ کھیلنا چوسر کھیلنے کی طرح ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو حامد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کی تَعْلِیْق(یعنی شرح یا حاشیہ)میں ہے کہ یہ شطرنج کی طرح ہے اور یہ کہنا زیادہ بہتر ہے کہ جس کھیل میں (ہار جیت کا)دارومدار مہروں (یعنی گوٹیوں ) پر ہو وہ چوسر کی طرح ہے اور جس میں دارومدار غور وفکر پر ہو وہ شطرنج کی مثل ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) فرماتے ہیں : یہ قول صحیح اور بہترین ہے، نیز جمہور کے چوسر اور شطرنج کے مابین بیان کردہ فرق کے مطابق بھی ہے۔ پھرانہوں نے حضرت سیِّدُنا شیخ ابو حامد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدسے منقول کلام میں اختلاف کیاجس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت سیِّدُنا امام محاملی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِینے ان سے نقل کیا کہ حُزَّۃ چوسر کی طرح ہے اور حضرت سیِّدُنا سلیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے ان سے نقل کیا کہ حُزَّۃ اور قِرْق دونوں چوسر کی طرح ہیں اور حضرت سیِّدُنا امام بَنْدَنِیْجِی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے تصریح کی کہ یہ چوسر کی طرح ہے اور یہ تینوں حضرت سیِّدُنا شیخ ابو حامد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد کی سند اور اُن کی تعلیق کے راوی ہیں اور اسے حضرت سیِّدُنا امام رویانی اور حضرت سیِّدُنا امام عمرانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمَا نے ذکر کیا۔
حضرت سیِّدُنا اِبنِ رِفْعَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے’’ اَ لْمَطْلَب ‘‘میں نقل فرمایا: ’’ان دونوں کوحرام قرار دینا عراقیوں کے مذہب کے عین مطابق ہے جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام بَنْدَنِیْجِی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اور حضرت سیِّدُنا ابنِ صباغ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ (متوفی۴۷۷ھ)نے اس کی تصریح کی ہے۔‘‘ پھرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہنے حضرت سیِّدُنا شیخ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع