30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غفلت کی صورت میں کوتاہی کا ثبوت:
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے شطرنج میں منہمک ہوکر غفلت کا شکار ہونے والے کے متعلق تصریح کر دی ہے کہ کسی ایسے شخص کو معذور نہیں سمجھا جائے گا جو کھیل میں اس قدر منہمک ہو جائے یہاں تک کہ نماز کا وقت نکل جائے اور اسے شعور تک نہ ہو۔ کیونکہ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ یہ غفلت اس کے بذاتِ خود اس مکروہ فعل میں زیادہ منہمک ہونے اور اس پر ہمیشگی اختیار کرنے کی کوتاہی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے یہاں تک کہ اس کی وجہ سے اس نے فرض کو ضائع کر دیا۔
جہالت کی صورت میں کوتاہی کا ثبوت:
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے جہالت کے متعلق بھی وضاحت فرمائی کہ اگر ایک شخص فوت ہو گیا اور ایک مدت تک اس کی تجہیز وتکفین نہ کی گئی اور نہ ہی نمازِ جنازہ پڑھی گئی تو اس کا پڑوسی گنہگار ہو گا خواہ اسے اس کی موت کی خبر نہ ہو۔ کیونکہ پڑوسی کے احوال سے اس قدر بے خبر رہنا سخت کوتاہی ہے۔ لہٰذا اسے نافرمان اور خطاکار قرار دیا جاسکتا ہے ۔
چوسر اور شطرنج میں فرق:
سوال3: ہمارے نزدیک چوسر اور شطرنج کے درمیان کیا فرق ہے؟
جواب: ہمارے(شافعی) ائمۂ کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے ان دونوں میں فرق کیا ہے کہ چوسر میں (ہار جیت کا)انحصار مُہروں (یعنی گوٹیوں ) پر ہوتا ہے جبکہ شطرنج میں دارومدار سوچ وبچار اور غور وفکر پر ہوتا ہے اور یہ جنگ کی تدبیر میں فائدہ دیتی ہے۔
حُزَّۃ اور قِرْق میں فرق:
حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’میں ’’حُزَّۃ اور قِرْق‘‘ کھیلنے کوناپسند کرتاہوں۔‘‘
حُزَّۃ کی تعریف:
اس سے مراد لکڑی کا ٹکڑا ہوتا ہے جس میں 3 سطروں کا گڑھا کھود کر اس میں چھوٹے چھوٹے کنکر رکھ کر کھیلا جاتا ہے اور اسے اَرْبَعَۃَ عَشَرَ بھی کہتے ہیں ، جبکہ مصر میں اسے مِنْقَلَۃ کہا جاتا ہے۔ حضرت سیِّدُنا سلیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے اپنی کتاب’’تَقْرِیْب ‘‘میں اس کے متعلق وضاحت یوں فرمائی کہ یہ ایک لکڑی ہوتی ہے جس میں 28سوراخ کئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع