30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{9}…حضرت سیِّدُنا ابراہیم نخعیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیسے پوچھا گیا کہ آپ شطرنج کھیلنے کے متعلق کیا فرماتے ہیں ؟‘‘ فرمایا: ’’یہ ملعون ہے (یعنی اس کا کھیلنے والالعنت کا مستحق ہے)۔‘‘ (۱)
{10}…حضرت سیِّدُنا وکیع جراح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ اور حضرت سیِّدُنا سفیان ثوریعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اس فرمانِ باری تعالیٰ: وَ اَنۡ تَسْتَقْسِمُوۡا بِالۡاَزْلٰمِ ؕ (پ۶، المائدۃ :۳)ترجمۂ کنز الایمان: اور پانسے ڈال کر بانٹا کرنا ۔‘‘ کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ یہاں مراد شطرنج ہے۔‘‘ (۲)
خاتمہ بالخیر نہ ہونا:
{11}…حضرت سیِّدُنامجاہد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں : جو شخص بھی مرنے لگتا ہے تو اس کے ہم نشینوں کی مثالی شکلیں اس کے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔ چنانچہ، ایسے ہی ایک قریب الموت شطرنج کے کھلاڑی سے کہا گیا: ’’لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ پڑھو۔‘‘ تو وہ کہنے لگا: ’’شَاھُکَیعنی تیرا شاہ۔‘‘ پھر وہ مر گیا۔ پس زندگی میں شطرنج کھیلنے کی وجہ سے جس بات کا وہ عادی ہو چکاتھا مرتے وقت اس کی زبان پر وہی بات غالب آ گئی تو اس نے وہ فضول وباطل بات کہہ دی اور کلمۂ طیبہ نہ پڑھا جس کے متعلق صادق ومصدوق نبیصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خبر دی ہے کہ ’’جس کا دنیا میں آخری کلام کلمۂ طیبہ ہو گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔‘‘ (۳)
حدیث ِ پاک کی وضاحت:
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے مطلق عذاب ہی نہ ہو گا یا پھر صرف بعض دیگر وجوہات کی بنا پر ہو گا اور ہم نے یہ تاویل اس لئے کی کیونکہ ہر مسلمان بالآخر ضرور جنت میں داخل ہو گا اگرچہ اسے عذاب میں مبتلا بھی کیا جائے۔ ورنہ اس بات کی خبر دینے کا کوئی فائدہ نہیں کہ کلمۂ طیبہ کا آخری کلام ہونا دخولِ جنت کا تقاضا کرتا ہے سوائے اس کے کہ اس میں کوئی ایسی خصوصیت ہو جو اس کے ساتھ دخولِ جنت کی تخصیص کا تقاضا کرتی ہو اور اس خصوصیت سے مراد یا تو یہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…شعب الایمان للبیہقی، باب فی تحریم الملاعب والملاہی، الحدیث:۶۵۲۰،ج۵،ص۲۴۲۔
2…الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، المائدۃ، تحت الآیۃ۳،ج۳،الجزء السادس،ص۲۳۔
3…کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ العشرون القمار،ص۱۰۳۔
سنن ابی داود،کتاب الجنائز، باب فی التلقین، الحدیث:۳۱۱۶،ص۱۴۵۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع