30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
والے تیروں ، چوسر، شطرنج اور دیگر لہو ولعب میں مشغول ہوتے ہیں تو انہیں سلام نہ کرو کیونکہ جب وہ اکٹھے ہو کر ایسے کھیل میں مشغول ہوتے ہیں تو شیطان ان کے پاس اپنے لشکروں کے ساتھ آ جاتا ہے پس وہ مسلسل کھیلتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اُن کتوں کی طرح ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں جو کسی مردار پر جمع ہو کر پیٹ بھرنے تک کھاتے رہتے ہیں پھر علیحدہ ہو جاتے ہیں۔‘‘ (۱)
{3}… سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:قیامت کے دن سب سے سخت عذاب صاحب ِشاہ (یعنی شطرنج کھیلنے والے) کو ہو گا، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وہ کہتا ہے: ’’میں نے اسے ہلاک کر دیا، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! وہ مر گیا۔‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ پر بہتان اور جھوٹ باندھا۔ (۲)
شطرنج کے متعلق اسلاف کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکے فرامین:
{1}…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کا فرمانِ حقیقت بیان ہے: ’’شطرنج عجمیوں کا جوا ہے۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک قوم کے پاس سے گزرے جو شطرنج کھیل رہی تھی تو یہ الفاظِ قرآنی تلاوت فرمائے:
مَا ہٰذِہِ التَّمَاثِیۡلُ الَّتِیۡۤ اَنۡتُمْ لَہَا عٰکِفُوۡنَ ﴿۵۲﴾ (پ۱۷،الانبیاء:۵۲)ترجمۂ کنز الایمان: یہ مورتیں کیا ہیں جن کے آگے تم آسن مارے ( پوجاکے لئے بیٹھے) ہو؟‘‘ (پھر فرمایا:) ’’بے شک تم میں سے کوئی انگارا پکڑ لے یہاں تک کہ وہ بجھ جائے یہ اس کے لئے ان کو چُھونے سے بھی بہتر ہے۔‘‘ پھر فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! تمہاری تخلیق کا مقصد کوئی دوسرا ہے۔‘‘ (۳)
{2}…امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے ایک قول یہ بھی مروی ہے کہ ’’شطرنج کھیلنے والا لوگوں میں سب سے زیادہ جھوٹ بولتا ہے، ان میں سے ایک کہتا ہے کہ میں نے ہلاک کر دیا، حالانکہ اس نے ہلاک نہیں کیا ہوتا اور(کہتا ہے) وہ مر گیا حالانکہ وہ مرا نہیں ہوتا۔‘‘ (۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…فردوس الاخبارللدیلمی، الحدیث:۱۰۵۱،ج۱،ص۱۶۰۔
کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ العشرون القمار، ص۱۰۲۔
2…الورع للامام احمد بن حنبل، ص۹۲۔
3…السنن الکبرٰی للبیہقی،کتاب الشہادات، باب الاختلاف فی اللعب بالشطرنج، الحدیث:۲۰۹۲۸،۲۰۹۳۰،۲۰۹۳۲،
ج ۱۰،ص۳۵۸۔
4…کتاب الکبائر للذہبی، الکبیرۃ العشرون القمار، ص۱۰۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع