30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
برائی اس میں موجود ہو۔‘‘
’’اَ لْمُحْکَم‘‘میں ہے کہ’’غیبت مسلمان کی عدم موجودگی میں ہی ہوتی ہے۔‘‘ اور میں نے حضرت سیِّدُنا امام تقی الدین بن دقِیقُ الْعید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ(متوفی۷۰۲ھ) کے مخطوطے میں یہ بات پائی کہ انہوں نے اپنی سند کے ساتھ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبرصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حدیث ِ پاک بیان فرمائی کہ،
{71}…آپصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ایسی بات جسیتو اپنے مسلمان بھائی کے سامنے بیان کرنا ناپسند کرے وہ غیبت ہے۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُناابو بکرمحمد بن علی بن اسماعیل شاشی المعروف علامہ قفّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی۳۶۵ھ)نے اپنے فتاوی میں غیبت کو شرعاً غیرمذموم صفات کے ساتھ خاص کیابخلاف زنا وغیرہ کے۔ پس ان کے نزدیک زانی کا ذکر کرنا جائز ٹھہرا۔ان کی دلیل یہ حدیث پاک ہے:
{72}…خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’فاسق کا ذکر ان مذموم صفات کے ساتھ کرو جو اس میں ہیں تاکہ لوگ اس سے بچیں۔‘‘ (۲)
لیکن اگر کوئی مقصد نہ ہو تو پردہ پوشی مستحب ہے ورنہ اسے ذلیل ورسوا کرنے یا اس کے فسق میں مبتلا ہونے کی اطلاع دینے کے لئے اس کے فسق کو بیان کرنا ضروری ہے۔
کسی شرعی ضرورت کے بغیر (غیبت کے)جواز کا مذکورہ قول ضعیف ہے جس پر اتفاق نہیں کیا جائے گا اور مذکورہ حدیث ِ پاک بھی ضعیف ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَوَّل (متوفی ۲۴۱ھ)نے ارشاد فرمایا ہے کہ’’یہ حدیث منکر ہے۔‘‘
اور حضرت سیِّدُنا امام بیہقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی( متوفی۴۵۸ھ) نے ارشاد فرمایا:’’اس کی کوئی اصل نہیں اور اگریہ صحیح حدیث بھی ہو تو اسے اعلانیہ گناہ کرنے والے یا گواہ بننے والے فاجر شخص پر محمول کیا جائے گا یا اس پر اعتماد کیا جا رہا ہو تو اس صورت میں فاجرکے حال کو بیان کرنے کی ضرورت ہو گی تا کہ اس پر اعتماد نہ کیا جائے۔‘‘ (۳)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…تاریخ مدینۃ دمشق لابن عساکر،الرقم۵۸۸۶ محمدبن احمد، الحدیث:۱۰۷۲۱،ج۵۱،ص۲۸۔
2…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا،کتاب الغیبہ، باب الغیبۃ الّتی…الخ،الحدیث:۸۴،ج۴، ص۳۷۴۔
3…شعب
الایمان للبیھقی ،باب فی الستر علی اصحاب القروف ،تحت الحدیث:۹۶۶۶،ج۷،ص۱۰۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع