30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گواہی مردود ہے۔ یہ ہمارے عام شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامکا قول ہے مگر حضرت سیِّدُناابو اسحاق عَلَـــیْہِرَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاق فرماتے ہیں کہ یہ شطرنج کی طرح ہے لیکن یہ قول قابلِ اعتماد نہیں اور پہلا مذہب ہی صحیح ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں :’’صحیح قول کے مطابق یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ) اسی قول کو اختیار کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں :’’جو چوسر کھیلے حالانکہ اسے اس کے متعلق وارد وعیدیں نہ صرف معلوم ہوں بلکہ یاد بھی ہوں تو وہ فاسق ہے اوراس کی گواہی مردود ہے خواہ وہ کسی بھی شہر میں ہو اور اس کی وجہ مروّت کو ترک کرنا نہیں بلکہ شدید ممنوع فعل کا ارتکاب کرنا ہے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) اور ان سے قبل حضرت سیِّدُنا شیخ ابو محمدعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد سے اس کے صغیرہ ہونے کا قول منقول ہے۔
سوال: حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) فرماتے ہیں کہ ہم نے جس کے مکروۂ تحریمی ہونے کا حکم لگایا ہے جیسا کہ چوسر۔ تو کیا یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے یہاں تک کہ صرف ایک بار اس کا ارتکاب کرنے سے گواہی مردود ہو جائے یا صغیرہ گناہوں میں سے ہے کہ جس میں بکثرت ارتکاب سے گواہی مردود ہوتی ہے؟
جواب:اس میں 2 صورتیں ہیں۔ امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کا کلام پہلے کی ترجیح کی طرف مائل ہے اور حق کے قریب دوسرا کلام ہے۔ اَلتَّہْذِیْب وغیرہ میں اسی طرح مذکور ہے۔
حضرت سیِّدُنا امام اسنوی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اسی پر اعتماد کرتے ہوئے فرماتے ہیں : صحیح وہی قول ہے جو شیخ ابومحمد عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الصَّمَد سے منقول ہے، اسی طرح وہ قول بھی صحیح ہے جسے حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) نے فصل کے آخر میں قابلِ ترجیح قرار دیا اور پھر اپنا مذکورہ قول ذکر کرنے کے بعد ارشاد فرمایا:شرح صغیر میں بھی اسے ترجیح دی گئی ہے۔ لیکن حضرت سیِّدُنا امام بلقینی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے حضرت سیِّدُنا امام رافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) کے کلام پراعتراض کیا اور فرمایا: اگر صحیح مذہب وہی ہے جسے اکثر علما نے صحیح قرار دیا تو حضرت سیِّدُنا محاملی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوالی نے اَلتَّجْرِیْد میں عام شافعی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام سے اسی قول کی مثل نقل کیا ہے جسے امام الحرمین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے صحیح قرار د یا ہے یعنی یہ مطلقًا کبیرہ گناہ ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع