30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوجاتا ہے اور اس برائی کا ارتکاب کرتا ہے جس کی محبت نفس کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے اور یہ بہت بڑا نقصان اُن کی ہم نشینی اختیار کرنے کے باعث ہوتاہے اور یہ اس کلام کی انتہا ہے۔
پچھلے کبیرہ گناہ میں آپ جان چکے ہیں کہ یہ ہمارے مذہب کے مطابق نہیں کیونکہ جب ہمارے علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فاسقوں کے فسق میں مبتلا ہونے کی حالت میں ان کے ساتھ بیٹھنے کو صغیرہ شمار کرتے ہیں اگرچہ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)کا اس میں اختلاف ہے تو اس کو بدرجۂ اولیٰ صغیرہ قرار دیا جائے گا۔
حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)کے بیان کردہ مؤقف اور اس میں فرق یہ ہے کہ فساق کے پاس موجود شخص فسق وفجور کومٹانے پر قادر ہو اور اپنی مرضی سے وہاں موجود ہو تو وہ ان کے فعل کو بر قرار رکھنے والا، ان پر راضی اور معین ومددگار شمار ہو گا اور ان تمام برائیوں کو کبیرہ گناہ شمار کرنا بعید نہیں۔ حضرت سیِّدُنا امام اذرعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی۷۸۳ھ)کے مذکورہ کلام سے یہی واضح ہوتا ہے۔
فساق کی ہم نشینی کی جائز وناجائز صورت :
رہا فاسق صاحبِ علم یا قاری وغیرہ کے ساتھ مطلقًا بیٹھنے کا معاملہ جبکہ وہ فسق وفجور میں مبتلا نہ ہوں تو اسے کبیرہ گناہ شمار کرنا بعید ہے، بلکہ اس کے اصلاً حرام ہونے میں بھی کلام ہے کہ جب اُن کے فسق یا وصف ِ فسق کی وجہ سے اُن کی دِل جوئی کے لئے اُن کی ہم نشینی اختیار کرنا مقصود نہ ہو بلکہ قریبی تعلقات یا کسی جائز ضرورت وغیرہ کے لئے اُن کا دل بہلانا مقصودہو تو اس صورت میں اسے اصلاً حرام قرار نہیں دیا جا سکتا اور اگر ان کے فاسق ہونے کی وجہ سے ان کی دِل جوئی کرے تو اس کے حرام ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامدمحمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ)نے بھی فساق وفجار سے دوستی کرنے اور شراب پیتے وقت شرابیوں کے ساتھ بیٹھنے کو گناہ شمار کیا ہے۔
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کے فرمان کا پہلا حصّہ کہ ’’فساق وفجار سے قلبی محبت کرنا‘‘اس بارے میں صریح ہے کہ فقط اُنس ومحبت کرنابھی حرام ہے اگرچہ اُن کا ہم نشین نہ ہو اور دوسرا حصّہ اس بارے میں صریح ہے کہ فاسقوں کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء علوم الدین،کتاب التوبۃ، بیان اقسام الذنوب بالإضافۃ إلی صفات العبد، ج۴،ص۲۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع