30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) ’’اِحْیَائُ الْعُلُوْمِ‘‘ میں فرماتے ہیں : ’’یہ استدلال فاسد ہے کیونکہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن ایسی صفات اس وجہ سے بیان کرتے تھے کہ انہیں سوالات کے ذریعے شرعی احکام جاننے کی ضرورت ہوتی تھی نیز ان کا مقصد خامی نکالنا نہیں ہوتا تھااور سرکارِ عالی وقارصلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ کے علاوہ انہیں اس قسم کی باتوں کی ضرورت بھی نہیں پڑتی تھی اور اس پر دلیل یہ ہے کہ امت کا اس پر اجماع ہے کہ جس نے کسی کے متعلق ایسی بات کہی جسے وہ ناپسند کرتا ہو تو وہ غیبت کرنے والا ہے کیونکہ آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے غیبت کی جو تعریف کی ہے یہ اس میں داخل ہے ۔ گزشتہ احادیث ِ مبارکہ میں ذکرہو چکا ہے کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی: ’’فلاں عورت پست قد والی ہے ۔ ‘‘ اور ’’فلاں مرد کتنا عاجز ہے۔‘‘ تو آپ صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’یہ غیبت ہے۔‘‘
حضرت سیِّدُنا امام حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشاد فرمایا: ’’دوسرے کا ذکر کرنا یا تو غیبت ہو گا یا بہتان یا پھر اِفْک (یعنی بغیر تحقیق کے الزام تراشی کرنا) اور ان سب کا حکم اللہ عَزَّوَجَلَّکی کتاب میں موجود ہے۔ پس غیبت یہ ہے کہ تو ایسی بات کہے جو اس میں موجود ہو اور بہتان یہ ہے کہ ایسی بات جو اس میں موجود نہ ہو اور اِفْک یہ ہے کہ تو ایسی بات کہے جو تجھے پہنچے۔ (۱)
تنبیہ4:
یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ غیبت میں کوئی فرق نہیں خواہ جس کی غیبت کی جارہی ہے وہ حاضر ہو یا غائب اور یہی قابلِ اعتماد بات ہے۔ جبکہ ’’اَ لْخَادِم‘‘ میں ہے کہ غیبت کا ضابطہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی جا رہی ہے، کیا اس کی عدم موجودگی میں ہی غیبت ہو گی جیسا کہ اس کانام(یعنی غیبت) تقاضا کرتا ہے یا پھر اس کی موجودگی یا عدم موجودگی میں کوئی فرق نہیں۔ یہی سوال کئی لوگوں کے درمیان گردش کرتا رہا بالآخر میں نے حضرت سیِّدُنا علامہ ابو فورک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھا کہ انہوں نے’’مُشْکِلُ الْقُرْآن‘‘ میں سورۂ حجرات کی تفسیر میں بہترین قاعدہ بیان فرمایا کہ’’کسی کی عدم موجودگی میں اس کا (برائی کے ساتھ ) ذکر کرنا (غیبت ہے)۔‘‘ اسی طرح حضرت سیِّدُنا سلیم رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی۴۴۷ھ) نے غیبت کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:’’غیبت یہ ہے کہ تو اپنے مسلمان بھائی کی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرے اگرچہ وہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء علوم الدین ،کتاب آفات اللسان ،الآفۃ الخامسۃ عشرۃ الغیبۃ ،بیان معنی الغیبۃ وحدودہا ،ج۳،ص۱۷۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع