30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر اُس کی مراد دوسرا معنی ہو جسے وہ لفظ شامل تو ہو لیکن وہ ظاہری معنی کے خلاف ہو۔ جیسا کہ حضرت سیِّدُنا امام نخعی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : اگر کسی شخص کو تیری طرف سے اس کے متعلق کہی ہوئی بات کی خبر پہنچے اور وہ تصدیق چاہتا ہو تو، تو کہہ دے:’’اللہُ یَعْلَمُ مَا قُلْتُ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئاًیعنی میں نے اس میں سے جو کچھ کہا وہ اللہ عَزَّوَجَلَّجانتا ہے۔‘‘ تو سننے والا مَا نافیہ سمجھے جبکہ تیری مراد مَا بمعنی اسمِ موصول اَ لَّذِیْہو۔(یعنی سننے والا اس کا مطلب یہ سمجھے: اللہ عَزَّوَجَلَّجانتا ہے کہ میں نے اس میں سے کچھ نہیں کہا۔)اور حاجت کے وقت ایسا کرنا جائز ہے۔
تور یہ کا حکم:
حاجت کے وقت توریہ کرنا جائز ہے جبکہ بلا حاجت مکروہ ہے اوراس کے ذریعے باطل کا حصول یا حق کی تردید ہو توحرام ہے۔ حضرت سیِّدُنا امام محمد بن ادریس شافعیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی’’الرسالۃ‘‘میں فرماتے ہیں : ’’پوشیدہ جھوٹ بھی جھوٹ ہی ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ انسان ایسے شخص کی روایت بیان کرے جس کے سچ کو اس کے جھوٹ سے نہ پہچانا جا سکتا ہو۔‘‘ (۱)
شارِحِ رسالہ، حضرت سیِّدُناصَیْرَفِی عَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : دِل قابلِ بھروسا شخص کی بات سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اس کی بات کی تصدیق کرتا ہے اور اگر وہ بات جھوٹی ہوتو وہ بھی جھوٹ میں اس کا شریک ہو جاتا ہے اور اس کی مثال یہ حدیث ِ پاک ہے: ’’رِیا پوشیدہ شرک ہے۔‘‘ (۲)
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…الرسالۃ للامام الشافعی، باب خبر الواحد، الحدیث۱۱۰۰،الجزء الثالث، ص۴۰۰۔
2…سنن ابن ماجہ، ابواب الزہد، باب الریاء والسمعۃ، الحدیث۴۲۰۴،ص۲۷۳۲، مفہوماً۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع