دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Jahannam Main Lay Janay Walay Amaal Jild 2 | جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

book_icon
جہنم میں لے جانے والے اعمال جلد 2

ہے، لہٰذا اس بنا پر جھوٹ کے کم یا زیادہ ہونے میں کوئی فرق نہیں۔

حضرات شیخین (یعنی امام رافعی وامام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا)نے حضرت سیِّدُناقفال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَلَال(متوفی ۳۶۵ھ) اور حضرت سیِّدُنا صیدلانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَ انِی سے یہ قول نقل کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ’’ھٰذَا حَسَنٌ بَالِغٌیعنی یہ قول بہت اچھا ہے ۔‘‘ عنقریب شعر کی بحث میں اس کی تفصیل آئے گی۔

تَوْرِیَہکا بیان:

اَلْخَادِممیں ہے کہ جہاں جھوٹ جائز ہو تو کیا وہاں تَوْرِیَہ شرط ہے یا مطلقًا جھوٹ بولنا جائز ہے؟ (۱)

توریہ کے فروعی (یعنی جزوی ) مسائل میں اختلاف ہے مثلاً جب کسی کو طلاق پر مجبور کیا جائے اور وہ توریہ پر قادر ہو تو کیا اس کے لئے غیر طلاق(یعنی طلاق نہ دینے ) کی نیت کرنا شرط ہے؟ اس صورت میں اصح (یعنی زیادہ صحیح) یہ ہے کہ اس کے لئے نیت کرنا شرط نہیں جبکہ غیر طلاق کا احتما ل بھی ہے۔ کیونکہ توریہ میں نیت اور طلاق میں الفاظ دیکھے جاتے ہیں یعنی یہ دیکھا جائے گا کہ کیا صراحتاً جھوٹ بولنا مباح ہے یا تعریض (یعنی توریہ) کرنااور (حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مرفوعاً روایت فرماتے ہیں کہ) ’’بلاشبہ توریہ میں جھوٹ سے بچا جا سکتاہے ۔‘‘ (۲)

اس سے نتیجہ نکلتا ہے کہ مطلقًا توریہ واجب نہیں اس لئے کہ جھوٹ کو جائز قرار دینے والا عذر ترکِ توریہ کو بھی جائز قرار دیتا ہے کیونکہ توریہ میں حرج ہے۔

حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) تصریح فرماتے ہیں : اوربہتر یہ ہے کہ (جھوٹ کے بجائے) توریہ کرے اور توریہ یہ ہے کہ مطلق طورپر ایک لفظ بولے جس کا ایک معنی ظاہر ہو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1197 صَفحات پر مشتمل کتاب ، ’’بہارِ شریعت‘‘جلدسوم صَفْحہ 518پر صدر الشریعہ ،بدر الطریقہ حضرت مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرما تے ہیں : ’’توریہ یعنی لفظ کے جو ظاہر معنی ہیں وہ غلط ہیں مگر اس نے دوسرے معنی مراد لیے جو صحیح ہیں ، ایسا کرنا بلاحاجت جائز نہیں اور حاجت ہو توجائز ہے۔ توریہ کی مثال یہ ہے کہ تم نے کسی کو کھانے کے لیے بلایا وہ کہتا ہے میں نے کھانا کھالیا۔ اس کے ظاہر معنی یہ ہیں کہ اس وقت کا کھانا کھالیا ہے مگر وہ یہ مراد لیتا ہے کہ کل کھایا ہے یہ بھی جھوٹ میں داخل ہے۔‘‘

2شعب الایمان للبیھقی، با ب فی حفظ اللسان، الحدیث:۴۷۹۴، ج۴،ص۲۰۳۔


 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن