30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے حق کے معاملے میں چشم پوشی جائز نہیں۔ البتہ! احتیاط یہ ہے کہ جہاں جھوٹ بولنا مباح ہو وہاں بھی ترک کر دے اور جو بات مبالغۃً کہی جاتی ہے وہ حرام جھوٹ میں داخل نہیں جیسے کسی کو یہ کہنا کہ میں تیرے پاس ہزار بار آیا کیونکہ یہاں مبالغے کا سمجھانا مقصود ہے نہ کہ تعداد بتانا لیکن اگر وہ اس کے پاس صرف ایک مرتبہ آیا تو جھوٹا ہے۔
کلامِ غزالی پر مصنِّف کا تبصرہ:
مبالغہ کے متعلق حُجَّۃُ الْاِسْلَامحضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) کے بیان کردہ مؤقف پر صحیح حدیث ِ پاک دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ،شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن،اَنِیْسُ الْغَرِیْبِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے: ’’اَ بُوْجَھْم اپنا عصا اپنی گردن سے اُتارتا ہی نہیں۔‘‘ (۱)
حالانکہ سب جانتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنااَ بُوْجَھْم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اکثر عصا رکھ دیتے تھے (اوراللہ عَزَّوَجَلَّکے مَحبوب، دانائے غُیوب ، منزہ عن الْعُیوبصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مذکورہ فرمان بطورِ مبالغہ ہے)۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کا ودیعت کے بارے میں قسم کو واجب قرار دینے کا قول کمزور ہے اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ قسم واجب نہیں اورجھوٹ کی اباحت پرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ کے مذکورہ کلام کی تائید حدیث ِپاک میں بیان کردہ جھوٹ کی مباح صورتوں سے ہوتی ہیں ، جو درج ذیل ہیں : (۱)…جھوٹ بول کر دو مردوں یا مرد اور عورت کے درمیان صلح کروانا (۲)…جنگ میں (چال چلنا) کہ جس سمت سے حملے کا ارادہ ہو اس کے خلاف ظاہر کرنا اور(۳)…بیوی سے جھوٹ بولنا تاکہ اُسے شوہر سے راضی کردے۔ اسی طرح شعر میں بھی جھوٹ جائز ہے بشرطیکہ اسے مبالغہ پر محمول کرنا ممکن نہ ہو۔ لیکن شعر میں جھوٹ کو گواہی قبول نہ ہونے میں (حرام) جھوٹ کے ساتھ نہ ملایا جائے گا۔
حضرت سیِّدُنا علامہ قفال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَلَال(متوفی۳۶۵ھ) فرماتے ہیں : جھوٹ ہر حال میں حرام ہے، البتہ! اگر یہ مبالغہ کے طور پر شعرا اور کاتبوں (یعنی لکھنے والوں ) کے طریقے پر ہو تو حرام نہیں مثلاً کسی کا یوں کہنا حرام نہیں کہ ’’میں تیرے لئے دن رات دعا کرتا ہوں اور میری کوئی مجلس تیرے شکر سے خالی نہیں ہوتی۔‘‘کیونکہ جھوٹ بولنے والا اپنے جھوٹ کوسچ ظاہر کرتا اور اسے پھیلاتاہے جبکہ شاعر کا مقصد شعر میں سچ ظاہر کرنا نہیں ہوتا بلکہ یہ تو اشعار کی بناوٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…صحیح مسلم،کتاب الطلاق، باب المطلقۃ البائن لا نفقۃ لہا، الحدیث:۳۶۹۷،ص۹۳۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع