30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
{26}… سرکارِ مکۂ مکرمہ، سردارِ مدینۂ منورہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’ اُس شخص کے لئے ہلاکت ہے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے بات کرتا اور جھوٹ بولتا ہے ، اُس کے لئے ہلاکت ہے، اُس کے لئے ہلاکت ہے۔‘‘ (۱)
{27}…دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’بروزِ قیامت 3 (قسم کے) لوگوں سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نہ توکلام فرمائے گا، نہ ان کی طرف نظرِ رحمت فرمائے گااور نہ ہی انہیں پاک کرے گا بلکہ ان کے لئے درد ناک عذاب ہو گا: (۱) بوڑھا زانی (۲) جھوٹا حکمران اور (۳) متکبر فقیر۔‘‘ (۲)
{28}…سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْنصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’3 شخص جنت میں داخل نہ ہوں گے: (۱) بوڑھا زانی (۲) جھوٹا حاکم یا بادشاہ اور (۳)خود پسند اور متکبر فقیر۔‘‘ (۳)
تنبیہ:
اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے جس کی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے تصریح کی ہے لیکن ایک قول کے مطابق اس کے گناہِ کبیرہ ہونے میں یہ شرط ہے کہ اس میں کوئی ضرر بھی ہو، اس لئے کہ مطلقًا جھوٹ کبیرہ گناہ نہیں ہوتا بلکہ کبھی یہ کبیرہ گناہ ہوتا ہے جیسے انبیاءے کرام عَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامپر جھوٹ باندھنا اور کبھی کبیرہ نہیں ہوتا۔
مذکورہ قول میں غور وفکر کی ضرورت ہے بلکہ توجہ اس طرف جاتی ہے کہ جب جھوٹ کا نقصان شدید ہو کہ عام طور پر برداشت نہ کیا جا سکے تو یہ گناہِ کبیرہ ہو گا۔ البتہ! حضرت سیِّدُنا امام رویانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَ انِی نے’’اَ لْـبَحْر ‘‘میں تصریح فرمائی ہے کہ یہ گناہِ کبیرہ ہے اگرچہ نقصان نہ ہو۔ مزیدفرماتے ہیں کہ جس نے جان بوجھ کر جھوٹ بولا اس کی گواہی مقبول نہیں ،اگرچہ اس کا جھوٹ کسی دوسرے کو نقصان نہ دے کیونکہ جھوٹ ہر حال میں حرام ہے اوراس کی مذمَّت میں حدیث ِ پاک مروی ہے اور مذکورہ احادیث ِ مبارکہ ظاہراً یا صراحۃً اس کی موافقت کرتی ہیں۔ گویا علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کی اس مؤقِّف سے عدول کرنے(یعنی پِھرنے) کی وجہ اکثر لوگوں کا اس میں مبتلا ہونا ہے۔ ایک طبقۂ علما
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی، ابواب الزھد، باب ما جاء من تکلم بالکلمۃ لیضحک الناس، الحدیث:۲۳۱۵،ص۱۸۸۵۔
2…صحیح مسلم،کتاب الإیمان، باب غلظ تحریم إسبال الإزار…الخ، الحدیث:۲۹۶،ص۶۹۶، بتقدیمٍ وتأخیرٍ۔
3…البحرالزخارالمعروف بمسند البزار، مسند سلمان الفارسی، الحدیث:۲۵۲۹،ج۶،ص۴۹۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع