30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چہرے کو سیاہ کرتا اور چغلی عذابِ قبر میں مبتلا کرتی ہے۔‘‘ (۱)
{18}…سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عظمت نشان ہے:’’والدین کے ساتھ نیک سلوک عمر میں اضافہ کرتا، جھوٹ رزق میں کمی کرتا اور دعا قضا کو ٹال دیتی ہے۔‘‘ (۲)
جھوٹ سے فرشتوں کی نفرت:
{19}…میٹھے میٹھے آقا، مکی مدنی مصطفیصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ معظَّم ہے: ’’جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس سے آنے والی بدبو کی وجہ سے فرشتے ایک مِیل دُور چلے جاتے ہیں۔‘‘ (۳)
سب سے بری عادت:
{20}… اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو جھوٹ سے زیادہ ناپسندکوئی عادت نہ تھی۔ جب کسی کا اس عادت میں مبتلا ہونا معلوم ہوتا تو وہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قلب ِ منوَّر سے نکل جاتا یہاں تک کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جان لیتے کہ اس نے توبہ کر لی ہے۔‘‘ (۴)
{21}… اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوت صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوجھوٹ سے زیادہ ناپسند کوئی خصلت نہ تھی اور کوئی شخص حضورعَلَـــیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی موجودگی میں جھوٹ بولتا تو آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ بات اپنے قلب ِ اطہر میں رکھ لیتے (یعنی اسے ناپسندیدہ جانتے) یہاں تک کہ آپصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو معلوم ہو جاتا کہ اس نے توبہ کر لی ہے۔‘‘ (۵)
{22}…اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضورنبی ٔپاک، صاحبِ لَوْلاک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…مسند ابی یعلی الموصلی، حدیث ابی برزۃ الاسلمی، الحدیث:۷۴۰۴،ج۶،ص۲۷۲۔
2…الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم ۶۰۰خالد بن اسماعیل ،ج۳، ص۴۷۹۔
3…جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ما جاء فی الصدق والکذب، الحدیث:۱۹۷۲،ص۱۸۵۰۔
4…الترغیب والترہیب،کتاب الادب، باب الترغیب فی الصدق۔۔الخ، الحدیث:۴۵۲۳،ج۳،ص۴۵۶۔
5…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشۃ، الحدیث:۲۵۲۳۸،ج۹،ص۴۹۱۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع