30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَلَا یَاۡبَ الشُّہَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوۡاؕ (پ۳، البقرۃ:۲۸۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور گواہ جب بلائے جائیں تو آنے سے انکار نہ کریں۔
رہا وہ شخص جس کے پاس کسی شخص کے حق میں گواہی ہو لیکن اسے معلوم نہ ہو یا وہ کسی ایسے معاملے کا گواہ ہو جو دعویٰ کا محتاج نہ ہو بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں اجر کا امید وار ہو۔ اس صورت میں اس نے نہ تو اس کی گواہی دی اور نہ ہی صاحب ِ حق کو کچھ بتایا کہ اسے گواہی کی خاطر بلایا جاتا تو کیا یہ بھی گواہی چھپانا کہلائے گا؟ تو اس مسئلہ میں غور وفکر کی ضرورت ہے اور گواہی دینے کے متعلق شیخین (یعنی امام رافعی وامام نووی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمَا )کا کلام اس پر دلیل ہے کہ وہ قصور وار نہیں ہو گا۔ مگر اس میں بھی مزید غور وفکر کی ضرورت ہے جیسا کہ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے فرمایا اور آیت ِ مبارکہ اُس مفہوم پر دلالت نہیں کرتی جس کے ساتھ اسے مقید کیا گیا ہے۔لہٰذا قابلِ ترجیح بات یہ ہے کہ اس میں کوئی فرق نہیں۔
۞۞۞۞۞۞۞
کبیرہ نمبر440: ایساجھوٹ جس میں حدیاضررہو
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
اَلَا لَعْنَۃُ اللہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾ (پ۱۲،ھود :۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:ارے! ظا لموں پر خدا کی لعنت۔
احادیث ِ مبارکہ میں جھوٹ کی مذمَّت:
{1}… حضرت سیِّدُناعبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی ٔ پاک صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’تم پر سچ بولنا لازم ہے کیونکہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کاراستہ دکھاتی ہے، آدمی ہمیشہ سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی جستجو میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک صِدِّیق لکھ دِیا جاتا ہے اور جھوٹ سے بچو! کیونکہ جھوٹ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم میں پہنچا دیتے ہیں ، آدمی ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور اس کی جستجو میں رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک کَذَّاب لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ (۱)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…جامع الترمذی، ابواب البر والصلۃ، باب ما جاء فی الصدق والکذب، الحدیث:۱۹۷۱،ص۱۸۵۰۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع