30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ارادے، اطاعت، مستحق کو حق دِلانے اور ظالم کو ظلم سے بچانے پر ثواب دِیا جائے گا اور اگروہ اپنی گواہی کی وجہ سے حق کو ساقط کرنے کے سبب جھوٹا ہو لیکن اسے اس ساقط ہونے کا علم نہ ہو تو اسے اپنے نیک ارادے کی وجہ سے ثواب ملے گا مگر گواہی کی وجہ سے ثواب نہ ملے گا کیونکہ یہ گواہی دونوں فریقوں کے لئے نقصان دِہ ہے۔‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’جو گواہی کسی پر قرض کی ادائیگی کو لازم قرار دینے اور ظالم سے ظلماً لی ہوئی چیز کے لوٹانے کا مطالبہ کرنے کے متعلق ہو اس میں غور وفکر کی ضرورت ہے کیونکہ اسباب ومباشرات(یعنی بالواسطہ اور بلاواسطہ معاملات) میں غلطی و جہالت دونوں ضمان(یعنی تاوان) میں برابر ہیں۔ ‘‘
۞۞۞۞۞۞۞
کبیرہ نمبر439: بلا عذر گواہی چھپانا
قرآنِ مجیدمیں گواہی چھپانے کی مذمَّت:
اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
وَمَنۡ یَّکْتُمْہَا فَاِنَّہٗۤ اٰثِمٌ قَلْبُہٗ ؕ (پ۳، البقرۃ:۲۸۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو گواہی چھپائے گا تو اندر سے اس کا دل گنہگار ہے۔
حدیث ِ پاک میں گواہی چھپانے کی مذمَّت:
نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَـــیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے: ’’جب کسی کوگواہی کے لئے بلایاجائے اس وقت اس نے گواہی چھپائی تو وہ جھوٹی گواہی دینے والے کی طرح ہے۔‘‘ (۱)
تنبیہ:اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے جس کی علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے تصریح فرمائی ہے اور حضرت سیِّدُنا امام جلال الدین بلقینیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے اس کے کبیرہ گناہ ہونے میں یہ قید لگائی ہے کہ اسے گواہی کے لئے بلایا جائے اور وہ انکار کردے۔ اس کی دلیل یہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…المعجم الاوسط، الحدیث:۴۱۶۷،ج۳،ص۱۵۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع