30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مروّت کے بارے میں حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) فرماتے ہیں :’’جو سنت ِ مؤکدہ اور رکوع وسجود کی تسبیحات چھوڑنے کا عادی ہو سنتوں میں سستی کرنے کی وجہ سے اس کی گواہی رد کی جائے گی۔‘‘ پس یہ اس بارے میں صریح ہے کہ خلافِ مسنون کام پر ہمیشگی اختیار کرنے سے گواہی رد کر دی جائے گی حالانکہ اس میں کوئی گناہ نہیں۔ حضرت سیِّدُنا امام حلیمیعَلَـــیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے مطلقًا فرمایا کہ سائل کو (خالی ہاتھ)لوٹانا صغیرہ گناہ ہے ۔
حُجَّۃُ الْاِسْلَامحضرت سیِّدُنا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) فرماتے ہیں :’’ مباح کام بھی ہمیشگی اختیار کرنے سے صغیرہ گناہ بن جاتا ہے جیسے شطرنج کھیلنا۔‘‘ (۱)
آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہ نے غیر حرام پر صغیرہ گناہ کا اطلاق کیا ۔ حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) کا کلام اختتام کو پہنچا۔
مذکورہ کلام سے واضح ہوا کہ جھگڑوں کے متعلق حضرت سیِّدُنا امام رافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی (متوفی ۶۲۳ھ) نے جو بحث فرمائی اور حضرت سیِّدُنا امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ)نے اُس کو صحیح قرار دیا وہ اس طرح نہیں جیسے حضرات شیخین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَـــیْہِمَا نے فرمایااوران کا کلام صَاحِبُ العُدَّۃ کے کلام کے مطابق بھی نہیں کیونکہ انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ یہ نافرمانی ہے جیسا کہ سنتیں چھوڑنے والا گناہ گار نہیں ہوتا مگر سنتوں کواہمیت نہ دینے کی وجہ سے اس کی گواہی قبول نہیں کی جاتی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جھگڑوں کی کثرت،عدم چشم پوشی اور حد سے بڑھنا سختی اور جرأت کا باعث ہے اور بغیر علم کے جھگڑنا بھی جھگڑے کی کثرت کے معنی میں ہے جیسا کہ قاضی کے وکلا کرتے ہیں۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَامحضرت سیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی(متوفی۵۰۵ھ) نے اس کی تصریح فرمائی اورحضرت سیِّدُنا امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی (متوفی ۶۷۶ھ) نے ان کے حوالے سے ’’اَلأذْکَار ‘‘میں ا سے نقل فرمایا۔
۞۞۞۞۞۞۞
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1…احیاء علوم الدین،کتاب التوبۃ، باب بیان أقسام الذنوب بالإضافۃ إلی صفات العبد،ج۴،ص۲۸۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع